نئی دہلی ، 22/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کریڈٹ کارڈ صارفین کے لیے ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق اگر بلز کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے تو بینکوں کو بھاری سود وصول کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بینکوں کو اجازت دی ہے کہ وہ کریڈٹ کارڈ بلز کی تاخیر پر صارفین پر اپنی مرضی کے مطابق سود کی شرح عائد کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد صارفین کو تاخیر کی صورت میں اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سپریم کورٹ نے نیشنل کنزیومر ڈسپیوٹ ریڈریسل کمیشن (NCDRC) کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ کریڈٹ کارڈ بلز پر سود کی حد مقرر ہونی چاہیے۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب بینک مقررہ وقت کے بعد ادائیگی نہ کرنے والے صارفین سے بھاری شرح سود وصول کر سکیں گے۔ 2008 میں این سی ڈی آر سی نے فیصلہ دیا تھا کہ کریڈٹ کارڈ بلز پر سالانہ 30 فیصد سے زیادہ سود وصول نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، سپریم کورٹ کے جسٹس بیلا تریویدی اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔
اس کیس میں معیاری بین الاقوامی بینکوں جیسے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، سٹی بینک، امریکن ایکسپریس، اور ایچ ایس بی سی نے این سی ڈی آر سی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کریڈٹ کارڈ بلز کی تاخیر پر سود کی شرح پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، اور بینک اپنی مرضی سے سود وصول کر سکتے ہیں۔
آواز فاؤنڈیشن نے این سی ڈی آر سی سے شکایت کی تھی کہ کچھ بینک کریڈٹ کارڈ کے بلز پر بے تحاشا سود وصول کر رہے ہیں۔ اس شکایت کے بعد این سی ڈی آر سی نے 30 فیصد کی حد مقرر کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف بینکوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔
بینکوں کا دعویٰ تھا کہ وہ کریڈٹ کارڈ لین دین پر 45 دن تک سود وصول نہیں کرتے، لیکن کچھ صارفین بلز کی ادائیگی میں تاخیر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بینکوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے بھی کریڈٹ کارڈ بلز کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ کریڈٹ کارڈ کے اجراء پر کنٹرول ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکوں کو کافی ریلیف ملا ہے، اور یہ فیصلہ کریڈٹ کارڈ صارفین کو اپنی بلز کی وقت پر ادائیگی پر مجبور کرے گا۔