ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ’وَن نیشن، وَن الیکشن‘: جے پی سی کے اراکین کی تعداد 31 سے بڑھا کر 39 کر دی گئی

’وَن نیشن، وَن الیکشن‘: جے پی سی کے اراکین کی تعداد 31 سے بڑھا کر 39 کر دی گئی

Sat, 21 Dec 2024 10:22:22    S.O. News Service

نئی دہلی   ، 21/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘ بل کی منظوری کے بعد اسے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں بھیج دیا گیا۔ ابتدائی طور پر اس کمیٹی میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے مل کر مجموعی طور پر 31 اراکین شامل کیے گئے تھے، لیکن اب اس تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پارلیمانی اراکین کی درخواست پر ’ون نیشن، ون الیکشن‘ بل کے جائزے کے لیے جے پی سی میں مزید 8 اراکین شامل کیے گئے ہیں، جس سے کمیٹی کی کل تعداد 39 ہو گئی ہے۔

بل پر غور و خوض کے لیے تشکیل جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں لوک سبھا سے 27 اراکین کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ راجیہ سبھا سے 12 اراکین کو شامل کیا گیا ہے۔ آج راجیہ سبھا میں دوپہر 12 بجے جب کارروائی شروع ہوئی تو مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے راجیہ سبھا کے 12 اراکین کو اس کمیٹی میں شامل کرنے کی تجویز رکھی۔ ایوان بالا سے اس کمیٹی میں بی جے پی سے گھنشیام تیواری، بھونیشور کلیتا، کے. لکشمن، کویتا پاٹیدار، جنتا دل یونائٹیڈ سے سنجے جھا، کانگریس سے رندیپ سنگھ سرجے والا و مکل واسنک، ترنمول کانگریس سے ساکیت گوکھلے، ڈی ایم کے سے کے. پی. ولسن، عآپ سے سنجے سنگھ، بی جے ڈی سے مانس رنجن منگراج اور وائی ایس آر کانگریس سے وی. وجئے سائی ریڈی کو شامل کیا گیا ہے۔

اس کمیٹی میں لوک سبھا سے جن 27 اراکین کو شامل کیا گیا ہے، ان میں بی جے پی سے پی پی چودھری، سی ایم رمیش، بانسوری سوراج، پروشوتم روپالا، انوراگ ٹھاکر، وشنو دیال شرما، بھرتری ہری مہتاب، سمبت پاترا، انل بلونی، وشنو دَت شرما، بیجنت پانڈا اور سنجے جیسوال شامل ہیں۔ کانگریس سے پرینکا گاندھی، منیش تیواری اور سکھدیو بھگت کو اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سماجوادی پارٹی سے دھرمیندر یادو اور چھوٹے لال، ترنمول کانگریس سے کلیان بنرجی، ڈی ایم کے سے ٹی. ایم. سیلواگنپتی، تیلگو دیشم پارٹی سے ہریش بالیوگی، شیوسینا (اباٹھا) سے انل دیسائی، این سی پی (ایس پی) سے سپریا سولے، شیوسینا سے شری کانت شندے، ایل جے پی (رام ولاس) سے شامبھوی، مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی سے رادھاکرشنن، آر ایل ڈی سے چندن چوہان اور جَن سینا پارٹی سے بالاشوری ولبھ نینی کو اس کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس جے پی سی کو آئندہ بجٹ اجلاس کے آخری ہفتہ کے پہلے دن تک رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ یہ بل 17 دسمبر کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔ ایوان میں ووٹوں کی تقسیم کے بعد 129ویں آئین ترمیمی بل 2024 کو پھر سے قائم کیا گیا۔ بل کو پیش کیے جانے کے حق میں 263 ووٹ پڑے، جبکہ خلاف میں 198 ووٹ ڈالے گئے تھے۔


Share: