سری ہری کوٹا، 30 /جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ناسا اور اسرو کے مشترکہ سیٹلائٹ مشن ’نسار‘ (NISAR) کا کاؤنٹ ڈاؤن منگل 29 جولائی کو دوپہر 2:10 بجے شروع ہوا، اور بدھ 30 جولائی کو شام 5:40 بجے سری ہری کوٹا کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا۔
نسار سیٹلائٹ زمین کا ہر موسم میں، دن اور رات کے وقت مشاہدہ کرے گا اور ہر 12 دن میں ایک بار ڈیٹا فراہم کرے گا۔ اس کا مقصد زمین اور برف کی حرکت، زمینی ایکو سسٹم، اور سمندری علاقوں کی نگرانی کرنا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جو ہندستان اور امریکہ کے لیے سائنسی طور پر اہم سمجھے جاتے ہیں۔
یہ سیٹلائٹ دنیا کا سب سے مہنگا زمین مشاہداتی سیٹلائٹ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر کل لاگت 1.5 بلین امریکی ڈالر آئی ہے۔ اس میں سے اسرو نے تقریباً 53.69 ملین ڈالر (یعنی 469.4 کروڑ روپے) ادا کیے ہیں، اور لانچ کی مکمل لاگت بھی ہندستان نے ہی برداشت کی ہے۔
نسار کو "ٹیکنالوجیکل ماروَل" کہا جا رہا ہے کیونکہ یہ پہلا سیٹلائٹ ہے جو دو دو مختلف SAR (Synthetic Aperture Radar) – L-band اور S-band – کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس کی صلاحیتوں میں بادلوں کے اندر جھانکنے کی طاقت بھی شامل ہے، جو زلزلے، برف پگھلنے، زمین کھسکنے اور آتش فشاں جیسے قدرتی آفات کو سمجھنے میں مدد کرے گی۔ ناسا کا کہنا ہے کہ نسار کاربن سائیکل پر جنگلات کی کٹائی، برف کے پگھلنے اور آگ کے اثرات کو بھی سمجھنے میں اہم ڈیٹا فراہم کرے گا۔
یونین وزیر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں کہا کہ پچھلے 10 سالوں میں ہندستان نے دنیا کو دکھایا ہے کہ اسپیس ایپلیکیشن صرف راکٹ چھوڑنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب سائنسی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔