سری ہری کوٹہ، 29 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) ناسا اور اِسرو کے مشترکہ مشن ’نِسار‘ (NASA-ISRO Synthetic Aperture Radar) کو ہندوستانی خلائی انجینئرنگ کا عالمی مظاہرہ قرار دیتے ہوئے نِسار کے سابق پروجیکٹ منیجر رادھا کرشنا کوولورو نے کہا ہے کہ یہ مشن دنیا بھر کے صارفین سے وسیع پیمانے پر عملی فیڈ بیک حاصل کرے گا۔
انھوں نے کہا کہ نِسار کا ڈیٹا عالمی سطح پر دستیاب ہوگا اور ہر ملک اسے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرے گا، جس کے ذریعے ہندوستانی خلائی انجینئرنگ کی صلاحیت دنیا کے سامنے آئے گی۔
یہ مشن GSLV-Mk II راکٹ کے ذریعے 30 جولائی کی شام 5:40 بجے سری ہری کوٹہ سے لانچ کیا جائے گا، جو GSLV کی 18ویں اور ملکی کریوجینک اسٹیج کے ساتھ 9ویں آپریشنل پرواز ہوگی۔ اس بار پہلی مرتبہ GSLV کو سورج ہم آہنگ قطبی مدار (Sun-Synchronous Polar Orbit) میں بھیجا جائے گا۔
ناسا اس مشن میں L-Band ریڈار فراہم کر رہا ہے جبکہ اِسرو S-Band فراہم کر رہا ہے، جس سے زمین، قطبین اور سمندروں کی مسلسل نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ یہ سیٹلائٹ ہر 12 دن میں پوری زمین کا احاطہ کرے گا، اور ہر مہینے تقریباً 2.5 بار، جبکہ 120 دن میں 10 مرتبہ مکمل احاطہ کرے گا۔
نِسار مشن کے ذریعے جنگلات، برفانی تودوں، ہمالیہ اور انٹارکٹیکا میں موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے گی۔ اس کا ڈیٹا حکومتیں، تحقیقی ادارے اور تجارتی ادارے استعمال کریں گے۔ یہ مشن پانچ سال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اِسرو زیادہ تر ڈیٹا کو اوپن سورس کے طور پر فراہم کرے گا۔
رادھا کرشنا کوولورو نے اسے اِسرو اور ناسا کے درمیان زمین کی نگرانی پر پہلا بڑا اشتراک قرار دیا اور کہا کہ یہ تکنیکی تعاون دونوں اداروں کے تجربات اور منصوبہ بندی میں ہم آہنگی پیدا کرے گا۔