ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مہلک سیلاب کے بعد نیپال کی تعمیر نو کا تخمینہ 4.78 بلین ڈالر، 1385 ہلاکتیں

مہلک سیلاب کے بعد نیپال کی تعمیر نو کا تخمینہ 4.78 بلین ڈالر، 1385 ہلاکتیں

Sat, 12 Sep 2026 11:11:50    S O News

کھٹمنڈو، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی ) نیپال کو گزشتہ ماہ برفانی تودہ کے گرنے سے آنے والے مہلک سیلاب کے بعد تعمیر نو کے لیے تقریباً  ۴؍ اعشاریہ ۷۸؍ بلین ڈالر درکار ہوں گے، ملک کی وزارت خارجہ نے جمعہ ۱۱؍ ستمبرکو یہ بات کہی۔یہ آفت۲۶؍ اگست کو پیش آئی جب پانی، کیچڑ اور ملبے کا بہاؤ چین نیپال سرحد کے قریب علاقوں سے گزرا۔ تقریباً ۱۴۰۰؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ۵؍ ہزار سے زائد اب بھی لاپتہ ہیں۔نیپال کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے کہا کہ زیادہ تر رقم طویل مدتی تعمیر نو کے لیے درکار ہوگی۔ چھیتری نے صحافیوں کو بتایاتعمیر نو کے لیے کل تخمینی ضرورت تقریباً ۴؍ اعشاریہ ۷۸؍ بلین ڈالر ہے۔اس میں سے تقریباً۵۷؍ اعشاریہ ۶۷؍ ملین ڈالر اگلے چھ ماہ میں قلیل مدتی تعمیر نو اور بحالی کے لیے درکار ہوں گے، جبکہ تقریباً۴؍ اعشاریہ ۷۱؍ بلین ڈالر طویل مدتی تعمیر نو کے لیے درکار ہیں۔

بعد ازاں نیپال کی قومی اتھارٹی برائے آفات کے خطرے میں کمی اور انتظام کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق۱۳۸۵؍ افراد ہلاک اور۵۱۳۰؍ اب بھی لاپتہ ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے اب تک۱۳۶۷۶؍ افراد کو بچایا ہے۔ جبکہ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔حکومت نے ریسکیو اور امدادی کاموں کے لیے۲۱۰۲۲؍ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ان میں۸۸۴۴؍ نیپال فوج کے اہلکار،۷۹۷۵؍ نیپال پولیس کے اہلکار اور۴۲۰۳؍ مسلح پولیس فورس کے اہلکار شامل ہیں۔

نیپال کے لیڈروں نے کہا ہے کہ ملک کو اپنے پہاڑی علاقوں میں بدلتے ہوئے حالات سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم بالین شاہ نے پہلے کہا تھا کہ نیپال کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے درپیش آفات کو بین الاقوامی برادری کے سامنے شدت سےاٹھانا چاہیے۔ توقع ہے کہ شاہ بطور وزیر اعظم اس ماہ پہلی بار بیرون ملک سفر کریں گے تاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کر کے یہ معاملہ اٹھائیں۔

واضح رہے کہ نیپال زیادہ تر دیہی ملک ہے جس کی آبادی تقریباً۳؍ کروڑ ہے۔ صنعتی ممالک کے مقابلے میں یہ دنیا کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں صرف ایک چھوٹا حصہ پیدا کرتا ہے۔برفانی پہاڑ یا گلیشیئر کے گرنے کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ تاہم، دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں، جس سے ایسی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہمالیہ میں گلیشیئر، جو دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہے، بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔چھیتری نے کہا کہ حکومت اب آفت سے ہونے والے مکمل نقصان کا جائزہ لے رہی ہے۔نقصان کی نوعیت اور وسعت کو دیکھتے ہوئے، حکومت آفت کے بعد کی ضروریات کا جامع جائزہ بھی لے رہی ہے تاکہ نقصان و تباہی کی مکمل حد اور بحالی، دوبارہ تعمیر اور تعمیر نو کی ضروریات کا تعین کیا جا سکے۔

دریں اثناءاقوام متحدہ کے ایک ابتدائی جائزے نے سیلاب سے عمارتوں کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ۱۵۸؍ ملین ڈالر لگایا۔ اس نے کہا کہ سڑکوں، پلوں اور کھیتی باڑی کے نقصان کے علاوہ انسانی امدادی اخراجات کو شامل کرنے کے بعد کل نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ علاوہ ازیں اس آفت سے پڑوسی چین میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق۴۳؍ افراد ہلاک اور ۵۱۹؍اب بھی لاپتہ ہیں۔ جبکہ نیپال اور چین میں مشترکہ ہلاکتوں کی تعداد اب۱۴۲۸؍ ہو گئی ہے، جبکہ۵۶۴۹؍ سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں سیاحوں اور زائرین سمیت تقریباً ۸۰۰؍غیر ملکی بھی شامل ہیں۔


Share: