نئی دہلی، 23/دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)یہ واقعی خوشی کی بات ہے کہ ہم آئین پر گفتگو کر رہے ہیں۔ اس کی اہمیت اس لیے ہے کہ جمہوریت کے دوسرے ستون کے کچھ لوگ تو اب خدا سے بات کرنے لگے ہیں۔ خدا کے پاس اتنے کام ہیں، کسی کو نوکری دلوانی ہے، کسی کی شادی کروانی ہے، کسی کو الیکشن جتوانا ہے۔ کون سی پرچی نکلے گی، کس کی عرضی قبول ہو گی، کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم آئین کے دائرے میں رہ کر بات کر رہے ہیں۔
جب سے میں اس ایوان میں آیا ہوں نہرو پر بہت بات ہوتی ہے۔ میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ ۲۰۱۴ء کا الیکشن، ۲۰۱۹ء کاالیکشن اور ۲۰۲۴ء کا الیکشن جواہر لال نہرو نہیں ہارے، اپوزیشن ہارا ہے، کانگریس ہاری ہے، آپ ۱۰۰؍ سال بھی الیکشن جیتیں گے تب بھی نہرو کو وہیں کھڑا پائیں گے کیونکہ نہرو آمریت کیخلاف پارلیمانی جمہوریت کی علامت ہیں۔ نڈا صاحب نے جے پی کا ذکر کیا۔ جے پرکاش ایسے آدمی تھے کہ جب ان پر تنقید نہیں ہوتی تھی تو ’چھدم ‘ نام سے خود اپنی تنقید خود ہی کرتے تھے۔ کشمیر کے موضوع پر جےپی نے نہرو کو جو چٹھی لکھی تھی یا ایمرجنسی کے وقت اندرا جی کو جو چٹھی لکھی تھی، وہ چٹھی اگر آج منوج کمار جھا اپنے نام سے کاپی پیسٹ کر دے تو جناب عالی شام تک میں ٹی وی کے مباحثوں میں ویلن بن جاؤں گا۔ چونکہ ایم پی ہوں اس لئے یو اے پی اے بھلے ہی نہ لگے مگر بہت سی تہمتیں ضرور لگ جائیں گی۔
دونوں طرف (اپوزیشن اور حکمراں محاذ کی جانب سے ) ایسی باتیں ہورہی ہیں کہ میری قمیص سفید، تمہاری گدلی، ذرا آئین کی قمیص بھی دیکھ لو، وہ گدلی نہ ہو، اس پر داغ نہ لگے، یہی ہمارا نصب العین ہو نا چاہئے۔ آج سے ۲۵؍ سال بعد میں اس ایوان میں نہیں ہوں گا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اس وقت نہیں ہوں گے، جب آئین کے ۱۰۰؍ برسوں پر گفتگو ہورہی ہوگی مگر لوگ تجزیہ کریں گے بالکل اسی طرح جیسے آج ہم کررہے ہیں کہ نہرو کو یہ کرنا چاہئے تھا، نہرو نے وہ نہیں کیا۔ ۱۰۰؍ سال بعد کوئی آپ کے بارے میں بھی نکتہ چینی کرے گا، وہ بھی اچھا نہیں لگے گا۔ ٹائم مشین نہیں ہے ورنہ میں اپنے ساتھیوں کو ۱۹۴۶ء، ۱۹۴۷ء میں لے جاتا، دونوں طرف خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، مندر میں گائے کاٹ کر پھینکی جارہی تھی، مسجد میں سور پھینکے جارہے تھے۔ اُس دور میں ایک ایسے ملک کی تعمیر کا عزم کرنا(معمولی بات نہیں ہے۔ ) غلطیاں ہوئی ہوں گی مگر آپ ویلن کیوں بناتے ہو۔ آپ سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں، ہم سے بھی ہوئی ہیں۔ جب ہم ایسے لیڈروں پر تبصرہ کرتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ ۴۷ء میں اس ملک کی کیا حالت تھی۔