ٹوکیو،28/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی)جاپان کے جنوب مغربی جزیرے کیوشو میں واقع کُوماموتو صوبے میں منگل کو 7.1 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس کے بعد حکام نے ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کر دی۔ زلزلے کے جھٹکے نہ صرف جاپان کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے بلکہ پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے بعض علاقوں تک بھی اس کی شدت محسوس کی گئی۔
جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (جے ایم اے) کے مطابق زلزلے کی شدت جاپانی ’شِنڈو‘ پیمانے پر زیادہ سے زیادہ شِنڈو 7 ریکارڈ کی گئی، جو اس پیمانے کی بلند ترین سطح ہے۔ زلزلے کا مرکز کُوماموتو شہر کے جنوب میں واقع اُکی شہر کے قریب تھا، جبکہ اس کی گہرائی تقریباً 10 کلومیٹر بتائی گئی۔
زلزلے کے فوراً بعد جے ایم اے نے اریاکے اور یاتسوشیرو سمندر سے ملحق ساحلی علاقوں کے لیے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو فوری طور پر ساحلوں سے دور رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی۔ حکام کے مطابق ابتدائی سونامی لہریں مختصر وقت میں ساحل سے ٹکرا سکتی تھیں، جبکہ مزید لہروں کے آنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا۔
زلزلے کے شدید جھٹکے کُوماموتو صوبے کے یاتسوشیرو، اُتو، ماشیکی، میساتو اور کُوماموتو شہر کے منامی وارڈ میں سب سے زیادہ محسوس کیے گئے، جہاں شِنڈو پیمانے پر شدت 6 یا اس سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ ناگاساکی، کاگوشیما، فوکوؤکا، ساگا اور میازاکی سمیت کئی قریبی صوبوں میں بھی زمین لرزنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
مقامی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کیوشو الیکٹرک کے مطابق زلزلے کے باعث کُوماموتو صوبے میں تقریباً 45 ہزار 600 گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی۔ بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان یا وسیع پیمانے پر تباہی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ زلزلہ 2016 میں کُوماموتو میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کے تقریباً دس برس بعد پیش آیا ہے۔ اپریل 2016 میں آنے والے دو بڑے زلزلوں میں 278 افراد جان سے گئے تھے جبکہ تقریباً 2 ہزار 800 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان زلزلوں کے نتیجے میں تاریخی کُوماموتو قلعے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا، جس کی مکمل بحالی کا کام 2052 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ادھر جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق زلزلے کے جھٹکے جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی بندرگاہی شہر بوسان سمیت کئی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ بوسان کے حکام نے بتایا کہ زلزلے سے متعلق شہریوں کی جانب سے کم از کم 157 فون کالز موصول ہوئیں، جبکہ متعدد افراد نے احتیاطاً عمارتوں سے نکل کر محفوظ مقامات کا رخ کیا۔
جاپانی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری انتباہات پر عمل کریں اور نئی ہدایات جاری ہونے تک سمندر کے قریب جانے سے گریز کریں۔