ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گوا اسمبلی میں درج فہرست قبائل کو ملے گا ریزرویشن، لوک سبھا میں بل پاس، منی پور میں صدر راج کی مدت میں توسیع

گوا اسمبلی میں درج فہرست قبائل کو ملے گا ریزرویشن، لوک سبھا میں بل پاس، منی پور میں صدر راج کی مدت میں توسیع

Wed, 06 Aug 2025 10:34:45    S O News

نئی دہلی، 6 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی)پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے گوا اسمبلی میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کو ریزرویشن فراہم کرنے والا بل صوتی ووٹ سے پاس کر دیا۔ "ری ایڈجسٹمنٹ بل 2025" کے عنوان سے پیش کیے گئے اس بل کو وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے ایوان میں پیش کیا۔ اگرچہ اس دوران اپوزیشن کی جانب سے بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی میں ترمیم کے مطالبے پر شدید احتجاج جاری رہا، مگر ہنگامہ آرائی کے بیچ بل کو منظور کر لیا گیا۔

بل کی وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق گوا میں درج فہرست قبائل کی آبادی میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ریاست کی کل آبادی 15,58,545 تھی، جس میں ایس سی کی آبادی 25,449 اور ایس ٹی کی آبادی 1,49,275 ریکارڈ کی گئی۔ اس کے باوجود ریاست کی 40 رکنی اسمبلی میں درج فہرست قبائل کے لیے کوئی سیٹ محفوظ نہیں تھی، جب کہ ایس سی کے لیے ایک سیٹ ریزرو ہے۔ اس بل کا مقصد اسی عدم مساوات کو دور کرنا ہے اور ایس ٹی طبقات کو آئینی ریزرویشن کا فائدہ فراہم کرنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ بل گزشتہ سال 6 اگست 2024 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا، اور ایک سال بعد 5 اگست 2025 کو یہ بل لوک سبھا سے منظور ہوا۔ یہ موجودہ مانسون اجلاس میں ایوان زیریں سے منظور ہونے والا پہلا بل ہے۔ بل کی منظوری کے بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

منی پور میں صدر راج کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع

ادھر راجیہ سبھا نے منگل کے روز منی پور میں صدر راج کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی ہے، جس کا اطلاق 13 اگست 2025 سے ہوگا۔ قبل ازیں 30 جولائی کو لوک سبھا اس قرارداد کی منظوری دے چکی تھی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں یہ قرارداد پیش کی۔

واضح رہے کہ منی پور میں پہلی بار صدر راج 13 فروری 2025 کو نافذ کیا گیا تھا، جب وزیر اعلیٰ این برین سنگھ نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ریاست میں گزشتہ دو سالوں سے نسلی تشدد، سیاسی بحران اور عدم استحکام کا ماحول برقرار ہے، جس کے پیش نظر صدر راج میں توسیع کی گئی ہے۔

’نو فلائی لسٹ‘ میں 48 مسافر شامل، ہوائی پروازوں میں انجن فیل ہونے کے کئی واقعات

اسی دوران مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں مطلع کیا کہ رواں سال 30 جولائی 2025 تک 48 مسافروں کو ’نو فلائی لسٹ‘ میں شامل کیا گیا ہے، جنہیں اب ہوائی سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔ وزیر مملکت برائے شہری ہوابازی مرلی دھر موہول کے مطابق 2024 میں 82 اور 2023 میں 110 مسافروں کو اسی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ قدم ان مسافروں کے خلاف اٹھایا جاتا ہے جو پرواز کے دوران نظم و ضبط کی خلاف ورزی یا بدتمیزی کرتے ہیں۔ ڈی جی سی اے کے ضابطوں کے مطابق ایسے رویوں کو تین سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

وزارت شہری ہوابازی نے یہ بھی اطلاع دی کہ سال 2025 کے جنوری سے جولائی کے درمیان ملک میں چھ بار پروازوں کے دوران انجن بند ہونے کے واقعات ہوئے، جب کہ تین بار 'مے ڈے کال' دی گئی۔ انڈیگو اور اسپائس جیٹ میں دو دو بار، جبکہ ایئر انڈیا اور ایئر لائنس ایئر میں ایک ایک بار انجن بند ہونے کی اطلاع ملی ہے۔


Share: