بنگلورو، 25/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا ہے کہ ریاست کے قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی تنوع کو ملک و بیرون ملک کے سیاحوں سے متعارف کرانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت سیاحت کے شعبے میں اہم اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گولڈن چیریٹ لگژری ٹورسٹ ٹرین کرناٹک کا قابلِ فخر اثاثہ ہے اور حکومت اسے ریاست کے سیاحتی امکانات کو فروغ دینے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔
بنگلورو کے میجسٹک اور کینگیری ریلوے اسٹیشنوں پر ہفتہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ہَمپی، بیلور، ملناڈ، میسور، ساحلی علاقے اور کورگ سمیت ریاست کے متعدد مقامات اپنی تاریخی، ثقافتی اور قدرتی خصوصیات کے باعث سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔ حکومت ان معروف مقامات کے ساتھ نئے سیاحتی مراکز کو بھی متعارف کرانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاکہ سیاحت کے ذریعے مقامی معیشت کو تقویت ملے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف بیرونی ریاستوں اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو کرناٹک کی سیر کرانا نہیں، بلکہ ریاست کے ان لوگوں کو بھی اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرنا ہے جو اب تک تمام سیاحتی مقامات نہیں دیکھ سکے۔ اسی لیے خصوصی ریلوے بوگیوں اور ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک سے استفادہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو نئی زندگی دی گئی ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ملک میں اس نوعیت کی چند خصوصی سیاحتی ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں کرناٹک اور راجستھان کی لگژری ٹرینیں نمایاں ہیں۔ میسور دسہرہ کے موقع پر ملک و بیرون ملک سے سیاحوں اور غیر ملکی سفارت کاروں کی آمد کو دیکھتے ہوئے حکومت ریاست کے سیاحتی مقامات کو مزید پرکشش بنانے کے لیے نئے پروگرام مرتب کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لگژری ٹرین کا سفر صرف امیر طبقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ گولڈن چیریٹ کے کرایے نسبتاً زیادہ ہونے کے باعث عام سیاحوں کے لیے اس میں سفر کرنا مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے حکومت آف سیزن کے دوران کم کرایوں پر سفر کی سہولت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے حکام سے بھی بات چیت کی گئی ہے، تاکہ کرناٹک کے مقامی باشندے بھی اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔
گولڈن چیریٹ کی سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹرین میں دو ریستوران، تقریباً 80 مسافروں کے لیے انتظامات، اسپا، جم، سبزی خور اور گوشت خور کھانوں کی سہولت اور رات کے قیام کے لیے آرام دہ کمرے موجود ہیں۔ تقریباً 60 ملازمین مسافروں کی خدمت پر مامور رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرین ریاست کے سیاحتی شعبے کا قیمتی اثاثہ ہے اور اس کے بہتر استعمال سے سیاحوں کی آمد میں اضافے کے ساتھ مقامی ہوٹلوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
ٹرین کے راستوں میں توسیع سے متعلق سوال پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اس سلسلے میں ریلوے حکام سے مشاورت ضروری ہے۔ راستوں کا تعین اس طرح کیا جائے گا کہ عام مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر نہ ہو۔ انہوں نے گولڈن چیریٹ کے سفر پر روانہ ہونے والے تمام مسافروں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس منصوبے میں تعاون پر ریلوے حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
مرکزی وزیر وی سومنا کو افتتاحی پروگرام میں مدعو کیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد کو دعوت دی گئی ہے اور وی سومنا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پروگرام میں شرکت کریں گے۔
مکہ مکرمہ اور سعودی عرب میں پھنسے کرناٹک کے باشندوں کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس معاملے پر مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ کیا ہے اور وزیر خارجہ سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر محفوظ فضائی رابطے اور پروازوں کے انتظامات کے لیے بھی درخواست کی گئی ہے۔ پروازوں میں تکنیکی دشواریوں کی اطلاعات ہیں اور ریاستی حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں موجود کنڑا باشندوں کی مدد کے لیے ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے اپیل کی کہ وہ گھبرائیں نہیں، کیونکہ ریاستی حکومت، اقلیتی بہبود کا محکمہ اور مرکزی حکومت ان کی مدد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔