ریاض، 25 اکتوبر (ایس او نیوز/الجزیرہ/عرب نیوز): سعودی عرب کے محکمہ دفاعِ شہری نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کی سمت داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں روک دیا گیا، تاہم ان کی تباہی کے نتیجے میں میزائلوں کے ٹکڑے مغربی سعودی عرب کے چار مقامات پر جا گرے۔ دوسری جانب حوثی تحریک نے دونوں مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا ہدف سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈے ہیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، محکمہ دفاعِ شہری کے ترجمان نے بتایا کہ ہفتہ، 24 اکتوبر کو دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے بعد ان کے ملبے سے متعلق کارروائیاں کی گئیں۔ حکام کے مطابق، مکہ مکرمہ میں وادی المغمس میں میزائلوں کے حصے گرے، جبکہ جدہ کے محلے النُزہہ، طائف کی وادی جلیل اور رابغ گورنری کے مرکز مستورہ میں بھی میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں ملبہ گرا۔

حکام نے بتایا کہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے مقررہ کارروائیوں پر عمل کیا گیا۔ تاہم، سرکاری بیان میں کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ یہ بھی واضح رہے کہ ملبہ گرنے کی اطلاع چار مقامات سے دی گئی ہے؛ مدینہ منورہ شہر کے اندر ملبہ گرنے کی الگ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔
حوثیوں کا انکار، تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ:
میڈیا رپورٹوں کے مطابق، حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے سعودی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کی رپورٹ کے مطابق، سریع نے کہا کہ حوثیوں کی کارروائیاں سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کے خلاف ہیں اور تحریک اپنی کارروائیوں کا اعلان خود کرتی ہے۔
حوثی تحریک نے اسی روز سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے سات فوجی کارروائیوں کا دعویٰ بھی کیا۔ ترجمان کے بیان کے مطابق، ان اہداف میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ائیرپورٹ، ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیب، رابغ کی آئل ریفائنری، خام تیل کی پمپنگ تنصیبات اور مشرق سے مغرب تک تیل پہنچانے والی پائپ لائن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے، نجران کے ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے فضائی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
حوثیوں نے ان کارروائیوں کو سعودی حملوں کے جواب میں قرار دیا۔ تاہم، ان کے بیان میں بیان کردہ اہداف کو پہنچنے والے نقصان اور حملوں کے نتائج کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے۔
سعودی عرب میں فضائی خطرات کے درمیان کشیدگی میں اضافہ:
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، سعودی قیادت والے اتحاد نے ہفتہ کے روز ینبع اور طائف کی سمت آنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی اطلاع بھی دی۔ سعودی حکام نے مختلف علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرات کے پیش نظر انتباہات جاری کیے تھے، جس کے بعد بعض مقامات پر خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا گیا۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے لیے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتے ہیں، اسی لیے ان علاقوں کی سمت میزائل داغے جانے کی خبر نے خصوصی توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم، اس واقعے کے بارے میں سعودی حکام کے بیان اور حوثی تحریک کی تردید کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، سعودی حکام نے دو میزائلوں کو روکنے اور ان کا ملبہ چار مقامات پر گرنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ حوثیوں نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے سے انکار کیا ہے۔