ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / غزہ انسانی تاریخ کا المناک باب، بھوک سے بلک رہے ہیں لوگ: مسلم رہنماؤں کا حکومت ہند سے مؤثر اقدام کا مطالبہ

غزہ انسانی تاریخ کا المناک باب، بھوک سے بلک رہے ہیں لوگ: مسلم رہنماؤں کا حکومت ہند سے مؤثر اقدام کا مطالبہ

Tue, 29 Jul 2025 07:55:42    S O News
غزہ انسانی تاریخ کا المناک باب، بھوک سے بلک رہے ہیں لوگ: مسلم رہنماؤں کا حکومت ہند سے مؤثر اقدام کا مطالبہ

نئی دہلی، 29 جولائی (ایس او نیوز): ملک کی سرکردہ مسلم تنظیموں اور ممتاز مذہبی رہنماؤں نے غزہ میں جاری انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ پیر کو پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران رہنماؤں نے کہا کہ غزہ اس وقت قحط، تباہی اور طبی ایمرجنسی جیسے سنگین بحران سے گزر رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی خاموشی شرمناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

قائدین نے اپنے بیان میں غزہ کی موجودہ صورتحال کو انسانی تاریخ کا بدترین باب قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر اس نازک وقت میں عالمی ضمیر خاموش رہا تو یہ تاریخ کا ایک ناقابلِ معافی جرم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں 20 لاکھ سے زائد شہری شدید غذائی قلت، ادویات کی عدم دستیابی، طبی سہولیات کے فقدان اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ 90 فیصد اسپتال یا تو مکمل تباہ ہو چکے ہیں یا ناکارہ ہو چکے ہیں۔ نوزائیدہ بچے انکیوبیٹرز میں دم توڑ رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر بغیر دوا اور انستھیزیا کے سرجری کرنے پر مجبور ہیں۔

پریس کانفرنس میں اسرائیل کی منظم جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سب کسی دفاعی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کو ختم کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔ رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور فوری جنگ بندی کی حمایت میں دیے گئے بیان کو سراہا، لیکن اس پر زور دیا کہ صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی تاریخی روایات اور سفارتی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے قائدانہ کردار ادا کرے۔

رہنماؤں نے اسرائیل کے ساتھ تمام عسکری و اسٹریٹجک تعلقات فی الفور معطل کرنے، انسانی بنیادوں پر غزہ کے لیے امدادی راہداریوں کا قیام عمل میں لانے، فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کرنے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے سمیت خوراک، پانی، ایندھن اور طبی امداد بڑے پیمانے پر ہر ضرورت مند تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس میں اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی گئی کہ بعض حلقے فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو مجرمانہ عمل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ فلسطین کی حمایت کوئی جرم یا انتہا پسندی نہیں، بلکہ یہ انسانی ہمدردی، بین الاقوامی قانون اور آئینی اقدار کا تقاضا ہے۔

عوام، طلبہ، سول سوسائٹی، علما، ماہرین تعلیم اور با ضمیر شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ غزہ کے ساتھ ہر سطح پر اظہارِ یکجہتی کریں—چاہے وہ احتجاجی مارچ ہوں، بیداری مہمات ہوں، بین المذاہب پروگرام ہوں یا علمی مذاکرے۔ رہنماؤں نے کہا کہ "غزہ کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔"

پریس کانفرنس میں مسلم دنیا سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع کرے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرے۔

یہ پریس کانفرنس آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت العلماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) اور دیگر ملی تنظیموں کے قائدین و نمائندہ مذہبی اسکالرز کی موجودگی میں منعقد ہوئی، اور اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔


Share: