ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے بعد جے رام رمیش کا مودی پر زبردست حملہ

ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے بعد جے رام رمیش کا مودی پر زبردست حملہ

Thu, 31 Jul 2025 23:50:38    S O News
ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے بعد جے رام رمیش کا مودی پر زبردست حملہ

نئی دہلی، 31 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی) کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ جیسے عالمی رہنماؤں سے ذاتی تعلقات کو قومی مفاد پر فوقیت دی، جس کے باعث ہندوستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

یہ بیان اُس وقت آیا جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یکم اگست سے ہندوستانی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف نافذ ہوگا، ساتھ ہی ہندوستان کی روس سے تیل اور اسلحے کی خریداری پر بھی پابندیاں لگیں گی، اور ایران سے وابستہ پیٹروکیمیکل تجارت میں شامل 6 ہندوستانی کمپنیوں پر بھی امریکی پابندیاں عائد کی گئیں۔

رمیش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ "ٹرمپ کا ہندوستان کے خلاف رویہ مسلسل سخت ہو رہا ہے۔" انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے "آپریشن سندور" کو روکنے کا کریڈٹ 30 بار لیا، اور 18 جون کو وائٹ ہاؤس میں پاکستان آرمی چیف اور پہلگام حملے کے ماسٹر مائنڈ کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔

جے رام رمیش نے مزید کہا کہ "یکم اگست کو ٹرمپ نے ہندوستان پر ٹیرف، روس سے خریداری پر پابندیاں، اور چھ کمپنیوں پر ایران سے تجارت کی بنیاد پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اسی دن انہوں نے پاکستان کو تیل و گیس ذخائر کی تلاش میں امریکی مدد دینے کا بھی اعلان کیا۔"

انہوں نے وزیراعظم مودی کی ٹرمپ اور شی جن پنگ سے "ذاتی دوستی" پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ "یہ دونوں اب سمجھ چکے ہیں کہ مودی اپنی انا اور خود پسندی کی وجہ سے آسانی سے متاثر ہو جاتے ہیں۔"

رمیش نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے "ٹوپ" یعنی ٹماٹر، پیاز، آلو کا مسئلہ تھا، اب "کیپ" یعنی چین، امریکہ، پاکستان کا سیاسی چیلنج ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف اور پابندیاں قومی مفاد اور پابندیوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر جائز قرار دیا۔ ٹرمپ نے ہندوستان کی تجارتی پالیسی کو "انتہائی سخت اور ناگوار" قرار دیتے ہوئے کہا: "تمام چیزیں خراب ہیں! ہندوستان پر یکم اگست سے 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانے نافذ ہوں گے۔"

پابندیوں کے تحت چھ ہندوستانی کمپنییاں — کنچن پولیمرز، الکیمیکل سولیوشنز، رمنیکل ایس گوسالیا اینڈ کمپنی، جیوپیٹر ڈائی کیم پرائیویٹ لمیٹڈ، گلوبل انڈسٹریل کیمیکلز لمیٹڈ، اور پرسسٹنٹ پیٹروکیم پرائیویٹ لمیٹڈ — پر ایران سے لاکھوں ڈالر کی کیمیکل تجارت کے الزامات لگے ہیں۔

مزید برآں، امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی کے بیٹے محمد حسین شمخانی سے وابستہ 50 افراد، کمپنیوں اور جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کیں، جن میں بھارتی شہری پانکج ناگجبھائی پٹیل، جیکب کوریئن اور انیل کمار پنکل نائر شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

بدھ کے روز حزب اختلاف نے امریکی پابندیوں اور ٹیرف کو مودی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا، اور کہا کہ وزیراعظم کی امریکی صدر سے دوستی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ مودی کو سابق وزیراعظم اندرا گاندھی سے سبق لیتے ہوئے امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف فوٹو سیشن اور ذاتی تعلقات پر انحصار کرنا چاہیے۔


Share: