دہرادون/اتراکھنڈ5/اگست (ایس او نیوز/ایجنسیز) — اُتراکھنڈ کے ضلع اُترکاشی کے معروف سیاحتی و مذہبی مقام دھرالی میں اچانک بادل پھٹنے کے باعث شدید طوفانی سیلاب آیا، جس نے صرف 34 سیکنڈ میں پورے علاقے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس سانحے میں کم از کم 4 افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ 50 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ واردات منگل دوپہر تقریباً 1 بج کر 45 منٹ پر پیش آئی۔ ۔ بادل پھٹنے کی خوفناک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، جس میں دیکھا گیا ہے کہ کس طرح چند سیکنڈ میں سب کچھ تباہ ہو گیا۔
حادثے کے فوری بعد خیر گنگا ندی کے اوپری علاقوں میں آئے ملبے اور پانی نے گاؤں کے بازار، متعدد مکانات اور تقریباً 20 سے 25 ہوٹلوں و ہوم اسٹے کو بہا دیا۔ سوشل میڈیا اور نیوز ایجنسیوں پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں لوگوں کی چیخ و پکار، پانی کے تیز ریلے اور تباہ شدہ عمارتوں کی ہولناک تصاویر دیکھی گئی ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق کھیر گنگا ندی میں پہاڑوں سے بہہ کر آئے ملبے سے گھرالی کا بازار، مکان اور ہوٹل بہہ گئے ہیں جبکہ صرف 34 سکینڈ کے اندر سب کچھ برباد ہوگیا ہے۔
جغرافیائی محل وقوع اور اہمیت
دھرالی گاؤں، گنگوتری دھام کے راستے پر واقع ہے اور یہ علاقہ ہریدوار سے تقریباً 218 کلومیٹر اور گنگوتری سے 18 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ مقام ہریدوار سے گنگوتری جانے والے یاتریوں کے لیے آخری بڑا قیام گاہ ہوتا ہے، جہاں سے وہ مزید دشوار گزار چڑھائی کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ گاؤں کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر یہاں رہائش اور خوراک کی سہولتیں دستیاب ہوتی ہیں۔
امدادی کارروائیاں اور سرکاری موقف
ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، آئی ٹی بی پی اور بھارتی فوج کی راجپوت رائفلز کی ٹیمیں موقع پر امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ دہرادون میں تعینات فوج کے تعلقاتِ عامہ افسر لیفٹیننٹ کرنل منیش سریواستو کے مطابق، واقعہ کے محض 15 منٹ بعد تقریباً 100 فوجی جوان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور اب تک 20 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔
اترکاشی کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سرتا ڈوبھال نے بتایا کہ مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ راستے میں مزید ایک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کچھ امدادی ٹیمیں پھنس گئی ہیں، تاہم تمام ایجنسیاں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مرکزی حکومت کی کارروائی اور بیان
بی جے پی کے گڑھوال سے رکن پارلیمان انیل بلونی نے اس واقعے کو "انتہائی خوفناک" قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی ہے، جنہوں نے این ڈی آر ایف، فوج اور آئی ٹی بی پی سمیت تمام مرکزی ایجنسیوں کو فوری طور پر متحرک کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بھی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
مزید خطرات: دوسرا بادل پھٹنے کا واقعہ
ضلعی انتظامیہ نے اس کے بعد ایک اور بادل پھٹنے کی اطلاع دی ہے جو دھرالی کے نزدیک سوکھی ٹاپ نامی مقام پر پیش آیا۔ اس نئے واقعہ نے بچاؤ کاموں کو مزید مشکل بنا دیا ہے کیونکہ ابھی پہلا سانحہ ہی مکمل طور پر سنبھالا نہیں گیا تھا۔ خطے میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، اور حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور خطرناک علاقوں سے دور رہیں۔
سڑکیں بند، بنیادی ڈھانچے کو نقصان
دھرالی گاؤں کے قریب واقع فوجی کیمپ سے تقریباً 4 کلومیٹر کے فاصلے پر بھی مٹی کے تودے گرنے سے سڑک بند ہوگئی ہے۔ چمولی پولیس کے مطابق پاگل نالہ اور بھنیرا پانی علاقوں میں ملبے کے باعث قومی شاہراہ NH-58 بند ہو چکی ہے اور سڑک سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ جیوتیرمٹھ-مالاری موٹر روڈ بھی سالدھار کے قریب مکمل طور پر بہہ گئی ہے۔
نتیجہ و صورتحال کی سنگینی
حکام کا کہنا ہے کہ اصل نقصان کا اندازہ مکمل ریسکیو آپریشن کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ چونکہ یہ علاقہ سیاحوں اور یاتریوں کا مرکز ہے، اس وقت یہاں کتنے لوگ موجود تھے، یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ مسلسل بارشوں اور زمین کھسکنے کے واقعات کے باعث خطے میں خطرے کی صورتحال برقرار ہے۔
مزید تفصیلات اور متاثرین کی شناخت آنے والے دنوں میں واضح ہونے کی امید ہے۔ فی الحال ریاستی و مرکزی حکومت کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات جاری ہیں۔