نئی دہلی، 23 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی): سپریم کورٹ میں بدھ کے روز چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی نے جسٹس یشونت ورما کی اس عرضی کی سماعت سے خود کو علیحدہ کر لیا، جس میں انہوں نے ایک ان ہاؤس انکوائری رپورٹ کو چیلنج کیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں جسٹس ورما کو کیش برآمدگی معاملے میں بدعنوان قرار دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس گوائی نے کہا، ’’میں اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکتا کیونکہ میں بھی اس کمیٹی کا حصہ تھا۔ ہم اسے فہرست میں شامل کریں گے اور نئی بینچ تشکیل دینی ہوگی۔‘‘ یہ بات انہوں نے سینئر وکیل کپل سبل سے کہی جنہوں نے معاملے کا ذکر کیا۔
جسٹس گوائی کی سربراہی والی بینچ میں جسٹس کے ونود چندرن اور جسٹس جوئمالیہ باگچی شامل تھے۔ کپل سبل نے گزارش کی کہ اس کیس میں کچھ آئینی سوالات اٹھائے گئے ہیں، اس لیے جلد از جلد سماعت کی جائے۔
جسٹس یشونت ورما نے اپنی عرضی میں 8 مئی کو اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی جانب سے پارلیمنٹ کو ان کے خلاف مواخذے کی سفارش کو بھی کالعدم قرار دینے کی اپیل کی ہے۔
چیف جسٹس شیل ناگو (پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ) کی سربراہی میں تین ججوں پر مشتمل انکوائری پینل نے 10 دنوں تک تحقیقات کیں، 55 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، اور 14 مارچ کی رات دہلی میں جسٹس ورما کی سرکاری رہائش پر پیش آنے والی آتشزدگی کا بھی جائزہ لیا۔
دریں اثناء، پیر کو لوک سبھا کے 145 اور راجیہ سبھا کے 63 ارکان پارلیمان نے جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی درخواست پیش کی۔ اس تحریک کو انوراگ ٹھاکر، روی شنکر پرساد، راہل گاندھی، راجیو پرتاپ روڈی، پی پی چودھری، سپریہ سولے اور کے سی وینوگوپال جیسے نمایاں رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے۔
آئینی ضوابط کے مطابق، کسی جج کے مواخذے کی تحریک کے لیے کم از کم 100 لوک سبھا اور 50 راجیہ سبھا اراکین کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ اس کے بعد اسپیکر یا چیئرمین اس تحریک کو قبول یا مسترد کر سکتے ہیں۔
کانگریس ایم پی کے سوریش نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ ان کی پارٹی اس مواخذہ تحریک کی مکمل حمایت کر رہی ہے اور دیگر انڈیا بلاک جماعتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔