نئی دہلی، 28 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی): جموں و کشمیر پولیس کے کانسٹیبل خورشید احمد چوہان پر مبینہ حراستی تشدد کے سنگین معاملے میں سی بی آئی نے ڈی ایس پی کپواڑہ سمیت پانچ دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف اقدامِ قتل، غیر قانونی حراست اور شدید جسمانی اذیت جیسے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
خورشید چوہان، جو بارہ مولہ پولیس ہیڈکوارٹر میں تعینات تھے، کو 20 فروری 2023 سے 26 فروری 2023 تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے 21 جولائی کو اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سی بی آئی کو ایف آئی آر درج کرنے اور متاثرہ کو 50 لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سی بی آئی کی ایف آئی آر میں ڈی ایس پی اعجاز احمد نائیکو، ریاض احمد، جہانگیر احمد، امتیاز احمد، محمد یونس اور شاکر احمد کے نام شامل ہیں۔ خورشید پر یہ مبینہ تشدد منشیات سے متعلق ایک انکوائری کے دوران کیا گیا تھا۔
سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں خورشید چوہان کے میڈیکل ریکارڈز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے جسم پر شدید زخم، جنسی اعضا کا مکمل نقصان، ہاتھوں اور پیروں پر چوٹیں، کولہوں اور رانوں پر نیل کے نشانات، اور مختلف حصوں میں فریکچر پائے گئے۔
یہ حساس معاملہ اب دہلی میں سی بی آئی کی اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم (SIT) کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو کپواڑہ کے جوائنٹ انٹرروگیشن سنٹر میں مبینہ نظامی بدعنوانی کی بھی تحقیقات کرے گی۔