نئی دہلی ، 4/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)’’میں نے نہایت غور سے وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی تقاریر سنیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی آواز میں زور تو ہے مگر مواد کمزور اور حقائق کی شدید کمی ہے۔یہ بی جے پی کی ایک روایت بن چکی ہے کہ جب بھی کوئی نکتہ اٹھایا جائے تو فوراً نہرو، اندرا اور کانگریس کو کھینچ لاتے ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ وقت، حالات اور زمینی حقائق کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس کو تاریخی سیاق و سباق سے الگ کرکے دیکھنا ناانصافی ہے۔ ۱۹۶۲ء کی جنگ ہوئی تو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت نہرو نے ہر مہینے ایک خط لکھ کر شکست کی وجوہات قوم کو بتائیں،موسم، پہاڑی علاقے، چین اور روس کا دباؤ، ہتھیاروں کی کمی ، سب کچھ تسلیم کیا ۔ اُس وقت کے آرمی چیف نے استعفیٰ دیا، جو قبول نہیں کیا گیا۔
مگر آج؟ پہلگام جیسا سانحہ پیش آیا، کیا کسی کے منہ سے معذرت کے دو لفظ نکلے؟ کئی عام شہریوں کو مار دیا گیا اور آپ یہاں فخر کا اظہار کر رہے ہیں؟ داخلی خفیہ ایجنسیاں پہلے ہی بتا چکی تھیں کہ پہلگام جیسے علاقے کو ہائی ریزولیوشن سیٹیلائٹ کی نگرانی میں لایا جائے۔ کیا یہ سچ نہیں؟ کیا وزیر دفاع، وزیر داخلہ، یا وزیر اعظم میں سے کوئی اس کی تردید کر سکتا ہے؟ اب تو سرجیکل اسٹرائیک جیسے دعوے پاکستان کے ساتھ روزمرہ کا معاملہ بن چکے ہیں۔ آپ ہمیشہ کہتے ہیں اندرا گاندھی کی غلطی کی ، نہرو نے کی لیکن آپ کے دور (واجپئی کی قیادت میں بی جےپی حکومت میں) میں۱۹۹۹ء میں ۲۴؍ دسمبر کو انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ اغوا ہوئی۔ مسافروں کی رہائی کیلئے دہشت گردوں کو چھوڑا گیا۔ اُس وقت کے سیکوریٹی ایڈوائزر بھی اجیت ڈوبھال ہی تھے اور انہوں نے اس پر ایک نوٹ لکھا۔ کیا یہ سفارتی ناکامی نہ تھی؟ پھر بھی فیصلہ کیاگیا کیونکہ حالات کا تقاضا تھا۔آج جب آپ کہتے ہیں کہ امریکہ کے نائب صدر نے ہمارے وزیر اعظم کو کال کر کے وارننگ دی کہ’’چند گھنٹوں میں پاکستان حملہ کرے گا۔‘‘
تو کیا یہ آپ کی خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی نہیں؟ کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ ہمیں یہ اطلاع وہائٹ ہاؤس سے ملتی ہے؟اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مؤثر جواب دیا۔ تو جناب، سوال یہ ہے: پہلگام میں دہشت گردوں کے حملے سے پہلے آپ کیا کر رہے تھے ؟ آئی بی ، راء، وزارتِ دفاع، سب کیا کر رہے تھے؟یہ سب کچھ ہوا، پھر بھی آئی ایم ایف پاکستان کو بیل آؤٹ دے رہا ہے، جو امریکہ کے زیر اثر ہے اور آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ پوری دنیا آپ کے ساتھ ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نائب صدارت ملتی ہے، دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے اور آپ اب بھی کہتے ہیں کہ دنیا پاکستان کو دہشت گرد ریاست مانتی ہے؟ کسی بھی بین الاقوامی ادارہ جی ٹوینٹی ، برکس ، کواڈ نےنے بھارت کے حق میں یا پاکستان کے خلاف کوئی قرارداد پاس نہیں کی۔جناب، یہ سب کیا ہے؟ ایک وزیر کہتا ہے ٹارگٹ پورا ہو گیا، آپریشن ختم۔ دوسرا وزیر کہتا ہے سیزفائر عارضی ہے، آپریشن جاری رہے گا اور سب سے شرمناک بات یہ کہ سیزفائر کا اعلان وزیر اعظم نے نہیں، بلکہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا۔ کیا یہ ہماری خودمختاری سے سمجھوتہ نہیں ہے؟آخر میں، جناب صدر، میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پہلگام واقعہ دہشت گردی سے نمٹنے میں حکومتی نااہلی کی زندہ مثال ہے۔آپریشن سندور ادھورا قدم تھا، جو امریکی اعلان پر رک گیا اور اگر آپ واقعی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، تو پارلیمان کو اعتماد میں لیں، مباحثہ کریں، حقائق بتائیں اور غیرضروری بیان بازی بند کریں۔