نئی دہلی، 24/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی ۲۰۲۴ء ڈجیٹل نیوز رپورٹ کے مطابق، ۵۰؍ فیصد سے زیادہ ہندوستانی اب خبروں کے مواد کیلئے سوشل میڈیا پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ رجحان روایتی خبر رساں اداروں پر اعتماد میں عالمی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ، جو چھ براعظموں کی۴۷؍ مارکیٹوں سے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے، اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ غلط معلومات، میڈیا پر سیاسی دباؤ اور غیر یقینی کاروباری ماحول روایتی خبروں کے ذرائع کیلئے اپنے سامعین کو برقرار رکھنا مشکل بنا رہا ہے۔ رپورٹ میں شامل ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً نصف ہندوستانی جواب دہندگان خبروں کے مواد کیلئے یوٹیوب (۵۴؍فیصد) اور وہاٹس ایپ (۴۸؍ فیصد) استعمال کرتے ہیں، جبکہ فیس بک اور ایکس کا استعمال کم ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی عالمی پیٹرن کی عکاسی کرتی ہے جہاں سوشل میڈیا اور میسیجنگ ایپس زیادہ نمایاں خبروں کے ذرائع بن رہی ہیں۔
جب بات روایتی آف لائن خبروں کے ذرائع کی ہو تو، این ڈی ٹی وی۳۲؍ فیصد جواب دہندگان کے ساتھ سر فہرست ہے۔ اور۱۸؍ فیصد کے ساتھ ہفتے میں کم از کم تین دن اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا دوسرے نمبر پر ہے، ۲۷؍ فیصد سامعین ہفتہ وار دیکھتے ہیں اور ۱۹؍ فیصد اسے ہفتے میں تین یا زیادہ بار پڑھتے ہیں۔ بی بی سی نیوز اور ریپبلک ٹی وی بھی اہم ہیں، جن میں سے ہر ایک کی ہفتہ وار رسائی۲۵؍فیصد اور۲۳؍ فیصدہے، حالانکہ ہر ہفتے تین یا اس سے زیادہ دن استعمال کرنے پر ان کی مصروفیت ۱۳؍ اور۱۴؍ فیصد رہ جاتی ہے۔ دیگر قابل ذکر آف لائن ذرائع میں ہندوستان ٹائمز اور روزنامہ بھاسکر شامل ہیں، دونوں کی ہفتہ وار رسائی۲۱؍ فیصد، لیکن ہفتے میں ۳؍ سے ۴؍ بار کا تناسب بالترتیب۱۳؍ اور۱۵؍ فیصد ہے۔
ڈی ڈی انڈیا (عوامی براڈکاسٹر دوردرشن) اور انڈیا ٹوڈے بھی ہفتہ وار۲۰؍ فیصد کے ساتھ مضبوط رسائی دکھاتے ہیں، ۱۰؍ اور۱۱؍ فیصد سامعین انہیں ہفتے میں کم از کم تین دن استعمال کرتے ہیں۔ ’’ہندو‘‘ اور علاقائی یا مقامی اخبارات میں سے ہر ایک کی ہفتہ وار رسائی۱۹؍ فیصد ہے، حالانکہ مقامی اخبارات میں ہفتہ وار تین یا اس سے زیادہ دنوں کیلئے۱۰؍فیصد ہے جبکہ’’دی ہندو‘‘ کی ۱۲؍ فیصد ہے۔ عوامی نشریاتی ادارے آل انڈیا ریڈیو کو ہفتہ وار۱۷؍ جواب دہندگان استعمال کرتے ہیں، لیکن صرف ۹؍ فیصد ہی بار بار ٹیون کرتے ہیں۔ دیگر کم رسائی والے آف لائن ذرائع میں دی انڈین ایکسپریس (۱۳؍فیصد ہفتہ وار، ۸؍ فیصد بار بار)، سی این بی سی ٹی وی ۱۸؍(۱۳؍ فیصد ہفتہ وار، ۶؍ فیصد باربار)سی این این (۱۲؍ فیصد ہفتہ وار، ۶؍ فیصد باربار)، اور دی اکنامک ٹائمز (۱۱؍ فیصد ہفتہ وار، ۶؍ فیصد بار بار)شامل ہیں۔
اس کے برعکس، آن لائن خبروں کی کھپت کے اعداد و شمارمختلف منظرنامے پیش کرتی ہے۔ این ڈی ٹی وی آن لائن سرفہرست مقام رکھتا ہے جس میں ۲۷؍ فیصد جواب دہندگان ہفتہ وار اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور۱۷؍ فیصدہفتہ میں تین یااس سے زیادہ دن ایسا کرتے ہیں۔ انڈیا ڈاٹ کام اور بی بی سی نیوز آن لائن ہر ایک کی ہفتہ وار رسائی۲۵؍فیصد ہے، لیکن انڈیا ڈاٹ کام میں بی بی سی نیوز آن لائن (۱۵؍ فیصد) کے مقابلے میں بار بار استعمال کی شرح (۱۰؍ فیصد) کم ہے۔ ٹائمز آف انڈیا آن لائن بھی۲۱؍ فیصد پر نمایاں ہفتہ وار ٹریفک حاصل کرتا ہے، ۱۳؍ فیصد صارفین اس تک ہر ہفتے تین یا اس سے زیادہ بار رسائی حاصل کرتے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے آن لائن اور ریپبلک ٹی وی آن لائن دونوں کی ہفتہ وار رسائی۱۹؍ فیصد ہے اور بار بار استعمال کی شرح۱۲؍ فیصد ہے۔
دیگر نمایاں آن لائن ذرائع میں ہندوستان ٹائمز آن لائن(۱۸؍ فیصد ہفتہ وار، ۱۱؍ فیصد باربار) اورڈی ڈی نیوز آن لائن (۱۷؍ فیصد ہفتہ وار، ۹؍ فیصد بار بار) شامل ہیں۔ دینک بھاسکر آن لائن ڈی، ڈی نیوز کی ہفتہ وار رسائی سے ۱۷؍ فیصد پر میل کھاتا ہے لیکن اس کے بار بار استعمال کی شرح (۱۲؍ فیصد)زیادہ ہے۔ ٹائمز ناؤ نیوز آن لائن اور سی این این ڈاٹ کام کی ہفتہ وار رسائی۱۵؍ فیصد ہے، حالانکہ صرف۸؍ فیصد صارفین ہی باقاعدہ استعمال کرتے ہیں۔ ہندو آن لائن۱۴؍فیصد کی ہفتہ وار رسائی دکھاتا ہے جس میں ٹائمز ناؤ اور سی این این کی ۸؍ فیصد بار بار استعمال کی شرح ہے۔ انڈین ایکسپریس آن لائن تک۱۳؍فیصد جواب دہندگان کے ذریعہ ہفتہ وار رسائی حاصل کی جاتی ہے، ۸؍ فیصد بار بار ایسا کرتے ہیں، جو اکنامک ٹائمز آن لائن(۱۱؍ فیصد ہفتہ وار، ۷؍ فیصد باربار) کی شرحوں کے برابر ہے۔ پرنٹ اور ریڈف نیوز میں سے ہر ایک کی ہفتہ وار رسائی۱۰؍ فیصد ہے، صرف۵؍ فیصد صارفین ان تک فی ہفتہ تین یا زیادہ دن تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر، نیوز انڈسٹری کو اہم چیلنجوں کا سامنا ہے، بشمول برطرفی، میڈیا آؤٹ لیٹ کی بندش، اور اشتہاری آمدنی میں کمی۔ یہ مسائل بڑی ٹیک کمپنیوں کی حکمت عملیوں میں تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھ گئے ہیں، جو اَب روایتی خبروں پر تخلیق کاروں اور مشغول مواد کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوٹیوب عالمی سطح پر خبروں کیلئے سب سے پسندیدہ پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے، ۳۱؍ فیصد جواب دہندگان نے اسے پسند کیا ہے۔ اس کے بعد وہاٹس ایپ (۲۱؍ فیصد) اور ٹک ٹاک(۱۳؍ فیصد) ہے۔ خاص طور پر، صرف ۱۰؍ فیصد جواب دہندگان اب بھی خبروں کیلئے ایکس کا استعمال کرتے ہیں۔ ویڈیو مواد خاص طور پر نوجوانوں میں مقبول ہے۔ تقریباً۶۶؍ فیصد جواب دہندگان مختصر خبروں کی ویڈیوز کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ۵۱؍ فیصدطویل فارمیٹس کے حق میں ہیں۔ زیادہ تر لوگ پبلشر ویب سائٹس (۲۲؍ فیصد) کے بجائے آن لائن پلیٹ فارمز (۷۲؍ فیصد) پر نیوز ویڈیوز دیکھتے ہیں۔