نئی دہلی، 29اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکز نے شترو جائیداد سے متعلق تقریباََ 50سال پرانے قانون میں ترمیم سے متعلق آرڈیننس کو چوتھی بار لاگو کیا ہے۔ترمیم مختلف جنگوں کے بعد پاکستان اور چین جا چکے لوگوں کی طرف سے چھوڑی گئی جائیداد کی جانشینی یا منتقلی کے دعووں سے متعلق ہے۔دشمن جائیداد کا مطلب کسی بھی ایسی جائیداد سے ہے جو کسی دشمن، دشمن شخص یا دشمن فرم سے متعلق، اس کی طرف سے منظم ہو۔حکومت نے ان املاک کو ہندوستان کے لئے دشمن جائیداد گارجین کے رشتہ داروں میں دے دیا ہے۔دشمن جائیدادگارجین ایک ایسا دفتر ہے جس کا قیام مرکزی حکومت کے تحت ہوئی1965کے ہند۔ پاکستان جنگ کے بعد 1968میں دشمن جائیداد قانون لاگو کیا گیا تھا جو اس طرح کی املاک کو باقاعدہ کرتا ہے اور سرپرست کے اختیارات کی فہرست ہے۔ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر پرنب مکھرجی نے ’’دشمن پراپرٹی(ترمیم )چوتھا آرڈیننس 2016کی منظوری دے دی اور اسے کل مطلع کیا گیا۔پہلا آرڈیننس یکم جنوری کو جاری کیا گیا تھا اور دوسرا آرڈیننس دو اپریل کو جاری کیا گیا۔صدر نے تیسرا آرڈیننس 31مئی کو لاگو کیا تھا اور یہ اتوار کو ختم ہو گیا۔آرڈیننس کی جگہ لینے کے لئے اسے چوتھی بار لاگو کرنا اس لئے ضروری تھا کیونکہ دشمن پراپرٹی(ترمیم )بل 2016راجیہ سبھا میں زیر التوا ہے۔اس مئی میں جاری مسلسل تیسرے حکم کے تسلسل کی وجہ سے بھی لاگو کرنا ضروری تھا۔