وزیراعلیٰ اروند کجریوال تھانے پہنچے،صدرجمہوریہ سے بھی کی ملاقات،حکومت سے رپورٹ مانگیں گے پرنب مکھرجی
نئی دہلی6نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایک طرف وزیراعظم مسلم عورتوں کے مان سمان کی بات کرتے ہیں اوران کے حقوق پرتقریریں کرتے ہیں دوسری طرف دہلی پولیس نجیب کی ماں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے اورگھسیٹتی ہے ۔جن کے آنسواب تک نہیں دیکھے جارہے ہیں۔جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کا پتہ لگانے کی مانگ کو لے کر دھرنے پر بیٹھنے گئی اس کی ماں اور خاندان کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پولیس نے اتوار کو بدسلوکی کی اور کافی دور تک انہیں گھسیٹ کر لے گئی۔جے این یو کے طلباء نے اس سلسلے میں انڈیا گیٹ کے پاس دھرنے کا اعلان کیا تھا لیکن دفعہ 144لگے ہونے کی وجہ سے پولیس نے انہیں وہاں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی۔نجیب کی ماں کو پولیس گھسیٹ کر وہاں سے لے گئی اور حراست میں لے لیا تاہم بعد میں مایاپوری لے گئے۔خبر سن کر دلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال بھی مایاپوری تھانے پہنچ گئے۔نجیب احمد 23دن سے لاپتہ ہے۔اس کا پتہ لگانے اورملزموں کوگرفتارنہ کرنے کے سلسلے میں دھرنا دینے گئے بہت سے طلبہ کوبھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔اس سے پہلے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اتوار کو کہا کہ صدر پرنب مکھرجی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یونیورسٹی کے لاپتہ طالب علم کے بارے میں وہ وزارت داخلہ اور جے این یو انتظامیہ سے رپورٹ مانگیں گے۔وزیراعلیٰ نے صدر سے ملاقات کی۔اس کے بعد انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا کہ انہوں نے صدر کو معاملے سے آگاہ کیا۔انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ دہلی پولیس نے’’سیاسی دباؤ‘‘کی وجہ سے معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔کیجریوال نے کہاکہ نجیب کے ساتھ جھڑپ میں جو لوگ شامل تھے، ان سے پولیس نے ہفتہ کو پوچھ گچھ کی، طالب علم کے لاپتہ ہونے کے 22دن بعد۔وہ بھی صرف ایک رسم تھی۔ہم نے صدر کو معاملے سے آگاہ کرایا ہے۔انہوں نے ہمیں یقین ہے کہ وہ دہلی پولیس اور جے این یوسے اس سلسلے میں رپورٹ مانگیں گے۔انہوں نے بعد میں ٹویٹ کیاکہ جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں ان کی مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے معزز صدر صاحب سے ملاقات کی۔انہوں نے حمایت کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ دہلی وزارت داخلہ اور جے این یو سے رپورٹ مانگیں گے۔