نئی دہلی، 2/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوپی کے سابق وزرائے اعلی کو رہائش گاہ کے الاٹمنٹ کے معاملے کی سماعت اب سپریم کورٹ موسم گرما میں چھٹی کے بعد کرے گا۔دراصل ایک سابق وزیر اعلی کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث کو فریق بنانے کی اپیل کی گئی جس پر درخواست گزار لوک پرہری نے کہا کہ ایسا سماعت میں تاخیر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔اس پر سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعلی کے وارث کو فریق بنانے کی ہدایت دی اور معاملے کی اگلی سماعت 31/جولائی کو کرنے کا فیصلہ کیا۔گزشتہ 3 /اپریل کو یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کو دو رہائش گاہوں کے الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواست کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مدعا علیہ ابھی وزیر اعلی نہیں ہیں اور انہوں نے اپنی رہائش گاہ خالی کر دی ہوگی۔گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا تھا کہ وزیر اعلی کے پاس دو بنگلے رہیں،تو اس میں کیا حرج ہے؟ عدالت نے کہا کہ وزیر اعلی کے پاس بہت سارے کام ہوتے ہیں، بہت سے سارے لوگ ان سے ملاقا تے کرنے آتے ہیں،اس کے لیے اگر دفتر کے کام سے دوسرا بنگلہ لیا گیا ہے تو کیا غلط ہے؟ اس طرح تو ججوں کے پاس بھی دو حصے ہوتے ہیں، ایک سکریٹریٹ اور ایک رہائش گاہ ہوتی ہے۔لوک پرہری نامی این جی او نے درخواست دائر کرکے اپیل کی تھی کہ قانون کے مطابق، اتر پردیش کے وزیر اعلی کو ایک ہی رہائش گاہ ملنی چاہیے۔درخواست گزار نے دلیل دی تھی کہ مذکورہ قانون میں اسی سال ترمیم کرتے ہوئے یہ الاٹمنٹ اس لیے بھی کیا گیا ہے تاکہ وزیر اعلی کے کاعہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی بنگلہ ان کے پاس بنا رہے۔وہیں یوپی حکومت کی دلیل تھی کہ 1985سے ہی ریاست میں وزیر اعلی کو دو بنگلے الاٹ کئے جانے کی روایت چلی آ رہی ہے۔