ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یوپی انتخاب میں یوگی آدتیہ ناتھ کے گروہ نے بڑھائیں امت شاہ کی مشکلیں

یوپی انتخاب میں یوگی آدتیہ ناتھ کے گروہ نے بڑھائیں امت شاہ کی مشکلیں

Sun, 29 Jan 2017 11:54:00    S.O. News Service

نئی دہلی28جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)یوپی انتخابات میں ٹکٹ تقسیم کے مسئلے پر بی جے پی میں مچا گھمسان تھم نہیں رہا ہے۔ریاست ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ کو سخت مخالفت کاسامنا ہو رہا ہے۔یہاں تک کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پارلیمانی نشست وارانسی میں بھی بی جے پی کارکنان احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔اس کڑی میں ناراض لیڈران کی نئی فہرست میں بی جے پی کے قدآور لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ کا نام بھی جڑ گیا ہے۔آدتیہ ناتھ کا پوروانچل کے گورکھپورکے علاقے میں میں خاصا اثر سمجھا جاتا ہے۔وہ بی جے پی کی جانب سے پانچ بار سے گورکھپور سے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔اس علاقے میں ان کی ایک تنظیم ہندویوواواہنی (ہیوا)بھی سرگرم ہے۔اس تنظیم نے جمعہ کو کشی نگر اور مہاراج گنج اضلاع کی چھ سیٹوں پر اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔اس کو آدتیہ ناتھ کے بی جے پی سے بغاوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ایسا تب ہوا ہے جب بی جے پی نے یوگی آدتیہ ناتھ کا نام 21جنوری کو ابتدائی دو مراحل کے انتخابات کے لئے جاری اسٹارپرچارکوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندویوواواہنی کا قیام 2002میں یوگی آدتیہ ناتھ نے ہی کیا تھا۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہندویوواواہنی کے صوبائی صدر سنیل سنگھ نے کہا ہے کہ بی جے پی نے تنظیم کے بانی یوگی آدتیہ ناتھ کی توہین کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی اتر پردیش کے لوگ چاہتے تھے کہ بی جے پی، یوگی آدتیہ ناتھ کو ریاست کے وزیر اعلی کے چہرے کے طور پر پیش کرے لیکن پارٹی نے ایسا نہیں کیا۔پارٹی نے ان کو الیکشن انتظامیہ کمیٹی میں شامل نہیں کیا۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے مزید کہا کہ آدتیہ ناتھ نے انتخابات کے لئے 10امیدواروں کی فہرست دی تھی، لیکن بی جے پی نے ان میں سے صرف دو ہی لوگوں کو ٹکٹ دیا۔ان کے مطابق اب توہین نہیں برداشت کی جائے گی اور مشرقی اتر پردیش کی 64سیٹوں پر یہ تنظیم بی جے پی کے خلاف اپنے امیدوار اتارے گی۔اس سلسلے میں یوگی آدتیہ ناتھ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو یوواواہنی کا ہر رکن پوری ریاست میں بی جے پی اور قوم پرست مشن کی حمایت کریں گے۔کوئی جہاں بھی جانا چاہتا ہے، جا سکتا ہے لیکن اس تنظیم کے دائرہ کار کے تحت صرف قوم پرستی کا کام ہی کیا جا سکتا ہے۔میں پوری ریاست میں بی جے پی کے لئے انتخابی مہم کروں گا۔ریاست کی تمام 403نشستوں پر ہم بی جے پی کا تعاون کریں گے۔بی جے پی یقینی طور پر اس بار حکومت بنانے جا رہی ہے اور قوم دشمن عناصر کو بے نقاب کریں گے۔


Share: