نئی دہلی، 2 ؍ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی اور مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی نے وسیع مذاکرات کے دوران دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے دوہرے چیلنجوں سے متاثر کن انداز میں نمٹنے کے لیے باہمی دفاعی اور سیکورٹی تعاون بڑھانے کا آج فیصلہ لیا۔ہندوستان اور مصر دونوں دہشت گردی کے خلاف لڑ رہے ہیں، ایسے میں دونوں رہنماؤں نے اس مسئلہ کوسب سے زیادہ سنگین خطرات میں سے ایک بتایا اور دفاعی تعاون بڑھانے کے علاوہ اس سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اطلاعات کے تبادلے کا فیصلہ کیا ۔مصر شمال مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے درمیان اہم لنک ہے۔مودی نے سیسی سے ملاقات کے بعد کہاکہ ہمارا خیال ہے کہ بڑھتی بنیاد پرستی، تشدد اور دہشت گردی اس علاقے میں ایک حقیقی خطرہ ہے۔دونوں ممالک نے تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا اور مانا کہ دونوں ممالک میں ایسے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے کئی موقع ہیں جن کا ابھی تک فائدہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاعی کاروبار ، ٹریننگ اور صلاحیت کی تعمیر میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے علاوہ کئی علاقوں میں تعلقات کو آگے لے جانے کے لیے کارروائی پر مبنی ایجنڈے پر اتفاق کیا۔یہاں کل تین روزہ دورے پر پہنچے صدر سیسی نے کہا کہ ان کی حکومت دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری تعاون کو بڑھانے کا روڈ میپ تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے ساتھ مضبوط سیکورٹی تعاون کو فرو غ دینے کی سمت میں کام کرے گی۔مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیاہے کہ دونوں لیڈران دہشت گردی کی سبھی شکلوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے دہشت گردی کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے سب سے بڑے خطروں میں سے ایک بتایا۔انہوں نے ہر محاذ پر دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔بیان میں کہا گیاہے کہ انہوں نے بین الاقوامی دہشت گردی کانفرنس(سی سی آئی ٹی ) کے سلسلے میں اقوام متحدہ میں مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔وزیر اعظم نے میڈیا میں جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان کی 1.25ارب عوام خوش ہے کہ مصر کے صدر یہاں آئے ہیں اور دونوں فریقوں نے تعاون کی کثیر رخی تعمیر پراتفاق کیا۔