لوک سبھاکیلئے یوپی اسمبلی الیکشن کی ریہرسل، مقابلہ ایس پی اوربی ایس پی سے نہیں،بی جے پی سے ہوگا
نتیش کمارکا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے ’سنگھ مکت بھارت‘ پرزور،شردیادوکے بیان پراحتجاج
کانپور،6اگست؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے شراب پرپابندی کا ایجنڈا لے کر اتر پردیش انتخابات لڑنے کی بات کرتے ہوئے آج یہاں کہاکہ گائے اور نیل کی حفاظت کی بات کرنے والے یہ سڑک پر نہ چھوڑیں۔بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کانپور سے تقریباََ70کلومیٹر دور گھاٹمپر میں جنتا دل یو کی کارکن میٹنگ میں حصہ لیتے ہیں۔اس کے بعد انہوں نے ایک اجتماع میں کہاکہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ گائے اور نیل گائے کی حفاظت کی بات کرتا ہے۔اگرگائے اور نیل گائے سے اتنی ہی ہمدردی رکھتے ہیں تو انہیں سنگھ(آر ایس ایس)اوربی جے پی کے لیڈر اپنی شاخوں میں رکھیں۔انہیں سڑکوں پر نہ چھوڑیں جس سے یہ پریشانی کا سبب بنے۔انہوں نے دعوی ٰکیاکہ سنگھ اوربی جے پی ایک سکے کے دوپہلوہیں۔بی جے پی،آر ایس ایس کا ہی ایک چہرہ ہے۔جے ڈی یو کارکنان کو چاہیے کہ وہ بھارتی جنتا پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے جوتے کی تصویر لے اور انہیں دکھا کر پوچھے کہ وہ کس چمڑے کے جوتے پہنے ہیں۔گائے کے نام پربی جے پی اور سنگھ ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ’’ سنگھ مکت بھارت‘‘ بنے۔انہوں نے اترپردیش حکومت سے کہا کہ وہ ریاست میں شراب پرپابندی مکمل طورپرلاگوں کریں۔ریاست کے اسمبلی انتخابات تو جے ڈی یو ریہرسل کے طورپرلڑ رہی ہے، ہمارا مقصد یہاں اپنا بنیاد مضبوط کرنا ہے۔اتر پردیش میں ہماری لڑائی سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سے نہیں بلکہ بھارتی جنتا پارٹی سے ہے۔ہماری نظر 2019میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات پر ہے جس میں ہم مضبوطی سے اتریں ۔
نتیش نے کہا کہ آج کل سوشل میڈیا کا بھی غلط استعمال فرقہ پرست طاقتیں کر رہی ہیں۔ فرقہ وارانہ پرستوں کی سازشوں سے ملک اور ریاست کو بچانا ہے اور سوشل میڈیاکی اکسانے والی باتوں سے بچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار میں شراب بندی کے بعد جو شراب کے عادی تھے وہ بھی سدھر گئے ہیں اور اب حکومت کے اس اقدام کی تعریف کر رہے ہیں۔بہار میں ہماری حکومت نے نسلوں کے مستقبل کو ہینڈل کا کام کیا ہے اور اب ہر کوئی ہماری حکومت کے اس کام کا تعاون کر رہا ہے۔انہوں نے بہار میں اپوزیشن بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو بی جے پی شراب بندی کی حمایت کرتی تھی لیکن اب جب بھی شراب پرپابندی پر کوئی قانون ہم اسمبلی میں لاتے ہے تو بی جے پی تعاون نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش ایک بڑی ریاست ہے اور دہلی کے اقتدار کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے۔اس لئے ہم پہلے اپنے کارکنان کو اتر پردیش میں مضبوط کریں گے اس کے بعد 2019میں زوردار طریقے سے لوک سبھا کا الیکشن لڑیں گے۔اس سے پہلے جے ڈی یولیڈرشردیادونے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی کے وعدوں کے بعدبھی ملک میں بے روزگاروں میں کمی نہیں آئی ہے اور ایک کروڑ 30لاکھ بے روزگار سڑک پر ہر سال آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کاوڑیئے جو اتنی بڑی تعداد میں سڑک پر آکر پانی چڑھانے جاتے ہیں وہ بھی ملک میں ایک طرح سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ہی ثبوت ہے۔اگر نوجوان بے روزگار نہ ہوتے تو اتنی زیادہ تعداد میں کاوڑیے پانی چڑھانے کیلئے سڑکوں پر نہیں اترتے۔شرد یادوکے کاوڑیے والے اس بیان کی مخالفت میں آج کانپور کے رامادیوی چوراہے پر شیو سینا نے شرد یادو کا پتلا پھونک کراحتجاج کیا۔