نئی دہلی،29اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایک طرف وزیر اعظم کا دفتر کشمیر میں کشیدگی کا پرامن حل تلاش کرنے میں مسلسل جٹا ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ جموں و کشمیر میں بھیجے جانے کے لئے نیا گورنر بھی تلاش کر رہا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ایک سینئرلیڈر نے کہا کہ حکومت موجودہ گورنر این این وہرا کے مقام پر بھیجے جانے کے لئے نیا چہرہ منتخب کرنے کا کام بہت احتیاط سے کرناہوگااورانہوں نے زور دے کر یہ بھی کہا کہ اس تبدیلی کو این این وہرا کی مدت سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔دہلی میں بیٹھے ایک وزیر نے کہا کہ وہ این این وہراانتہائی تجربے کار ہیں ۔انہوں نے انتہائی اچھا کام کیا ہے،انہیں اس بات کاکریڈٹ بھی ملنا چاہئے کہ کشمیر میں طویل امن بنا رہے، خاص طور پر غیر یقینی صورتحال کے ان دنوں میں، جب اس وقت کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کا عہدے پر رہنے کے دوران انتقال ہو گیا تھا اور ان کی بیٹی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کو لے کر فیصلہ کرنے میں کئی ہفتے لگا دئے تھے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے این این ووہرا کو بدلے جانے کی ضرورت پر سب سے پہلے بحث 18اگست کو وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے ساتھ کی تھی، جبکہ ریاست میں اقتدار میں شریک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کشمیر وادی میں عوامی مقبولیت کھوتی جا رہی ہے، جہاں سے انہیں سال 2014میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران شاندار اکثریت حاصل ہوئی تھی۔کشمیر معاملے سے نمٹنے میں لگے ہوئے ایک وزیر کے مطابق مرکز کو گورنر ہاؤس میں ایک نئے شخص کی ضرورت ہے،تاکہ ریاستی حکومت کو موجودہ بحران سے نمٹنے میں مدد مل سکے اور یہ یقینی بنایا جا سکے کہ حکومت کے نقطہ نظر اور حکمت عملی کے معاملے میں پسماندہ نہیں۔اور اس کے علاوہ وہ ایسا شخص ہونا چاہئے جو سیاسی بحران پیدا ہونے کی صورت میں مرکز کے عین مطابق سفیر ثابت ہوں۔جن ناموں پر بحث جاری ہے، ان میں اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی اور بی جے پی لیڈر میجر جنرل (ریٹائرڈ)بھون چندر کھنڈوری بھی شامل ہیں،وہ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی مرکزی حکومت میں وزیر تھے اور انہیں وزیر اعظم کے ہائی وے منصوبے کے لئے سختی سے کام کروانے والے کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن ان کی عمر 81سال ہے۔سابق داخلہ سیکریٹری انل بیجل بھی ممکنہ کی فہرست میں شامل ہیں،وہ وویکانند فاؤنڈیشن کا حصہ رہ چکے ہیں جو بی جے پی کے نظریاتی سرپرست راشٹریہ سیوم سیوک (آر ایس ایس)سے منسلک تھنک ٹینک ہیں۔ان دونوں کے علاوہ دو اور سابق جنرل ہیں، جن کے ناموں میں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین جو سری نگرمیں واقع 15کورپس کے سابق جنرل آفیسر کمانڈنگ رہ چکے ہیں۔، جنہیں کشمیر کی سیکورٹی سے جڑے مسائل کا براہ راست تجربہ ہے اور دوسرے ہیں جنرل ویدپرکاش ملک، جو سال 1999کے کارگل جنگ کے دوران ہندوستانی بری فوج کے صدر تھے۔ذرائع کے مطابق بحث میں کچھ دوسرے نام بھی شامل ہیں لیکن فی الحال صرف یہی یقین ہے کہ اس معاملے پر فیصلہ وزیر اعظم کریں گے۔اس طرح کی قیاس آرائی ہے کہ وزیر اعظم جموں و کشمیر میں بھیجنے کے لئے کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں گے، جس کا آر ایس ایس سے براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کسی سابق فوجی افسرکو بھیجنے کی خواہش مند نہیں ہے۔