بنگلورو،8/جولائی (ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اپنے بجٹ میں تعلیم سے متعلق کچھ بڑے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ تعلیم آزادی کی طاقت ہے اور ہمارے دور میں جمہوریت قائم کرنے کی طاقت ہے۔
انہوں نے اندرا گاندھی کے الفاظ کا حوالہ دیتے ہوئے معیاری تعلیم پر زور دیا کہ تعلیم ذات اور طبقے کی رکاوٹوں کو دور کرتی ہے اور پیدائش یا کسی اور حالت سے پیدا ہونے والی عدم مساوات کو دور کرتی ہے۔ نصابی کتابوں پر نظر ثانی پر کہا کہ اسکول کی تعلیم بچے کی شخصیت کی نشوو نما میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعہ بچوں کی جسمانی اور جذباتی نشو ونما، علمی اور نفسیاتی نشو ونما کی تکمیل کرنی چاہئے۔ تعلیم کے ذریعہ آپسی تعلقات، بھائی چارے، ہم آہنگی اور بقائے باہمی کا جذ بہ پیدا کرنا چاہئے۔ اس خواہش کے برعکس نصابی مواد کو پچھلی حکومت نے ٹیکسٹ ریویزن میں شامل کیا تھا اور انہیں موجودہ لائن سے ہٹانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
اسکولوں اور کالجوں کے لیے سہولت: ریاست کے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسکول کے کمروں کے لیے 310 کروڑ روپئے اور پری ڈگری کالج کے کمروں کے لیے 240 کروڑ روپئے سمیت 550 کروڑ روپئے کی لاگت سے 8,311 کمروں کے تعمیراتی کاموں کو جلد ہی مکمل کیا جائے گا۔ طلبہ کی تعلیم اور صحت کے لحاظ سے 5,775 اسکولوں اور 150 کالجوں میں ٹوائلٹ یونٹ بنائے جائیں گے جہا بچوں کی تعداد کے مطابق کم بیت الخلاء ہیں، وہاں نریگا اسکیم کے تحت 200 کروڑ روپئے کی لاگت سے ٹوائلٹ تعمیر کئے جائیں ہے۔ بارش کی وجہ سے خستہ حال اسکول اور کالج کی پرانی عمارتوں اور3,833 اسکولوں اور 724 پری ڈگری کالج کے کمروں کو 100 کروڑ روپئے کی لاگت سے مرمت کر کے استعمال کے قابل بنایا جائے گا۔ ریاست میں سرکاری پرائمری اور ہائی اسکولوں کی دیکھ بھال کے لیے دی جانے والی گرانٹ کو 47,272 اسکولوں اور 1,231 پری ڈگری کالجوں کی دیکھ بھال کے لیے کم از کم 20 ہزار روپئے سے بڑھا کر 45 ہزار روپئے کرتے ہوئے کل 153 کروڑ روپے گرانٹ دی جائے گی۔
اسکول کے بچوں میں انڈوں کی تقسیم: سرکاری اور امدادی اسکولوں میں پڑھنے والے پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو ہفتے میں ایک بار انڈے ، مونگ پھلی کی برفی، کیلے تقسیم کیے جاتے ہیں ، اب یہ ہفتے میں دو بار تقسیم کیے جائیں گے۔ موجودہ سال سے اس اسکیم کو کلاس 9 اور 10 میں پڑھنے والے طلبہ تک بڑھایا جائے گا اور 280 کروڑ روپئے کی لاگت سے 60لاکھ بچوں کو فراہم کیا جائے گا۔
بچوں میں سیکھنے کی معذوری پر قابو پانے کے لیے 80 کروڑ روپئے کی لاگت سے تقریباً 33 لاکھ طلبہ کے لیے سیکھنے کی مضبوطی کا پروگرام شروع کیا جائے گا۔
نئی اسکیم مروسنچنا کے تحت ڈیڑھ لاکھ طلبہ جو پڑھائی میں پیچھے رہ گئے ہیں، انہیں میٹرک کے امتحانات کی تیاری کے لیے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ محکمہ اسکول ایجو کیشن میں مختلف پروگراموں کے انتظام کے لیے SATS سافٹ ویئر کو 2.0SATS میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔
ثانوی اور پوسٹ گریجویٹ کالجوں میں انوویشن لیب قائم کی جائیں گی تا کہ طلبہ کو نئے آئیڈیاز کوحقیقت تک پہنچانے کے لیے ضروری سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔