لکھنؤ، 27/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے رام مندر کے چندہ چوری سے جڑے واقعات کے تعلق سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا’ لنکا کانڈ‘ ایودھیا میں ہی ہوگا اور بھگوان کے آڈٹ سے کوئی نہیں بچ پائے گا۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’’آخردان بھکتوں کا نقاب اتر گیا ہے اور پربھو کی الوہی طاقت نے اپنا چمتکار دکھا دیا ہے۔ اب بی جے پی کے غرور کی چمچماتی لنکا اور اس کے لنکا دھیپتی دونوں کا خاتمہ ہوگا۔‘‘
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کیلئے امرت کال اب ’’کال‘‘بن کر آیا ہے۔ ایس پی سربراہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت دعویٰ کرتی تھی کہ اس کے دور اقتدار میں استعفے نہیں ہوتے، لیکن اب ’’چڑھاوا-چندہ-دان چوری‘‘ کے معاملے سے دکھی عوام طنز کر رہے ہیں کہ بی جے پی کہہ رہی ہے، ’’ہم نے استعفیٰ نہیں، تیاگ پتر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور اس سے جڑے لوگوں کے ’’سیاہ کارناموں‘‘ کا یہ صرف پہلا باب ہے۔ آپسی بٹوارے کی لڑائی میں پارٹی، سنگھ، سبھا، پریشد، واہنی اور ٹرسٹ سے جڑے لوگ ایک دوسرے کی پول کھولیں گے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کہ لوگ ’’چوری کے مال سے بھرا جھولا-بورا‘‘ لے کر بھاگیں، ’’بارڈر بند کر دیے جائیں۔‘‘ اکھلیش یادو نے کہا کہ اب صرف یہی معاملہ نہیں، بلکہ دیگر معاملات کا بھی حساب دینا ہوگا۔
کانگریس نے چندے اور چڑھاوا میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے مداخلت کرنے اور رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کر کے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں وسیع جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس ایم پی راجیو شکلا نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ رام مندر کروڑوں لوگوں کی آستھا (عقیدت) کا موضوع ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر میں چندے اور چڑھاوا کی مبینہ لوٹ ہوئی ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کے لیے وزیر اعظم مودی کو براہِ راست مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرائی جانی چاہیے کیونکہ اس میں بڑے لوگوں کے کردار کی جانچ بھی ضروری ہے۔ ان کا الزام تھا کہ درج ایف آئی آر میں صرف چھوٹے ملازمین کے نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ اتنے بڑے پیمانے کی مبینہ بے ضابطگی بڑے لوگوں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔