نئی دہلی، 7؍ستمبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )ہندوستانی ہائی کمشنر گوتم بمباوالے کے ساتھ ہوئے توہین آمیز سلوک کو ہندوستان نے سنجیدگی سے لیتے ہوئے بدھ کو پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کیا۔وزارت خارجہ طلب کرکے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ آخر اسلام آباد سے کراچی بلائے جانے کے بعد گوتم بمباوالے کی دعوت کیوں مسترد کی گئی ۔واضح رہے کہ ہندوستانی ہائی کمشنر دو دن کے کراچی کے دورے پر تھے۔یہاں پیر کو انہوں نے کراچی کونسل آن فارن ریلیشن میں ایک اوپن سیشن میں حصہ لیا۔منگل کو انہیں چیمبرس آف کامرس میں بولنا تھا، لیکن آخری وقت میں ان کو پروگرام میں شریک ہونے سے روک دیا گیا۔روکے جانے کے پیچھے وجہ یہ مانی جا رہی ہے کہ ہندوستانی ہائی کمشنر نے کراچی کونسل آن فارن ریلیشن میں پاکستان کو کھری کھری سنائی تھی۔کشمیر میں جاری تشدد پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ جن کے گھر شیشے کے ہوتے ہیں وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کو کشمیر پرطاقت خرچ کرنے کے بجائے اپنی اندرونی مسائل سے نمٹنا چاہیے ۔تاہم اس پورے معاملے میں پاکستان کی جانب سے کچھ اور کہا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق کراچی میں جس پروگرام میں ہندوستانی ہائی کمشنر شرکت کرنے گئے تھے وہ پرائیویٹ پروگرام تھا۔پاکستانی حکومت نے اس کا انعقاد نہیں کیاتھا۔پاکستانی حکومت نے تو دریادلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گوتم بمباوالے کو اسلام آباد سے کراچی جانے کی اجازت بھی دے دی تھی۔اس کے بعد بھی پروگرام منسوخ ہوا، تو اس میں حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کو دئیے اپنے جواب میں پاکستانی ہائی کمشنر نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے ساتھ ہندوستان میں ایسا کئی بار ہوا کہ پروگرام میں بلا کر پھر اسے منسوخ کر دیا گیا۔دعوت دے کر واپس لے لی گئی ، لیکن پاکستان نے کبھی اس سلسلہ میں ہندوستانی ہائی کمشنر کو طلب نہیں کیا۔ایسے معاملے میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو طلب کرنا بے معنی ہے۔واضح رہے کہ کشمیر کو لے کر پاکستان کی جانب سے ہو رہی بیان بازی کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، ایسے میں یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔