کاروار، 5 / جولائی (ایس او نیوز) آئندہ سال منعقد ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے کے لئے بی جے پی نے دوسری پارٹیوں کو توڑنے یا انہیں اپنے ساتھ ملانے کی سرگرمی تیز کر دی ہے ۔ اس کا تازہ ترین ثبوت مہاراشٹرا میں این سی پی کے اجیت پوار اینڈ گروپ کا معاملہ ہے ۔
کچھ ایسی ہی سرگرمیاں کرناٹک میں بھی ہونے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں ۔ اگر ضلع شمالی کینرا کے سیاسی گلیاروں میں چل رہی سرگوشیوں پر یقین کریں تو اس بار بی جے پی نے سینئر کانگریسی لیڈر آر وی دیشپانڈے کے بیٹے پرشانت کو اپنے نشانہ پر رکھا ہے اور انہیں بی جے پی میں شامل کرکے لوک سبھا امیدوار بنانے پر غور کیا جا رہا ہے ۔
خیال رہے کہ آر وی دیشپانڈے کو اس مرتبہ کانگریسی حکومت میں وزارت نہیں دی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے کابینہ کی تشکیل میں سب سے آگے ان کا نام رہا کرتا تھا ۔ اس مرتبہ انہیں کابینہ سے باہر رکھنے کی وجہ سے دیشپانڈے کیمپ میں ناراضگی اور بدمزگی ضرور پائی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی اس سے فائدہ اٹھاںے کی کوشش کر رہی ہے ۔
بعض ذرائع کا کہنا یہ ہے کہ کینرا پارلیمانی سیٹ پر بی جے پی کے اننت کمار ہیگڈے نے انتخاب لڑنے میں دلچسپی نہیں دکھائی ہے اس لئے وشویشورا ہیگڈے کاگیری ، روپالی نائک یا سنیل نائک کے نام پر غور کرنے کے ساتھ پارلیمانی انتخاب میں کانگریس کو دھچکہ لگانے کے مقصد سے سینئر کانگریس لیڈر دیشپانڈے کے گھر میں نقب لگانے کے پہلو کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے ۔
کہتے ہیں کہ پرشانت دیشپانڈے کو بی جے پی میں گھسیٹنے کا آسان راستہ مہاراشٹرا میں این سی پی لیڈر پرفل مہتا کے ذریعہ طے کیا جائے گا جو پرشانت دیشپانڈے کے سسر ہیں اور اس وقت مہاراشٹرا اگھاڑی حکومت سے الگ ہو کر این ڈی اے میں شامل ہوئے ہیں ۔
دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کرناٹکا اور خاص کرکے ضلع شمالی کینرا میں لوک سبھا الیکشن کے لئے بی جے پی اپنا کونسا سیاسی کرتب دکھاتی ہے اور کیا کیا ڈرامے ہوتے ہیں ۔