نئی دہلی، 30اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے ممبئی ڈانس بار معاملے میں صاف کیا ہے کہ بار میں رقص کے وقت پیسے لٹانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔یہ خواتین کے وقار ، تہذیب اور آداب کے خلاف ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پیسے لٹانے سے خواتین کو برا لگے گایااچھا۔اس معاملے کو لے کر مہاراشٹر حکومت کو نئے ایکٹ پر نوٹس دے کر عدالت نے چار ہفتے میں جواب مانگاہے۔ڈانس بار میں پیسے لٹانے کو لے کر ریاستی حکومت نے بھی نئے ایکٹ میں پابندی لگائی ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس پابندی کی حمایت کی ہے ۔سماعت کے دوران ڈانس بار کے ذمہ داروں کی طرف سے کہا گیا کہ ریاستی حکومت نے جونیاایکٹ بنایا ہے اس میں کئی خامیاں ہیں۔فحش ڈانس کرنے پر تین سال کی سزا کاانتظام کیا گیا ہے جبکہ آئی پی سی میں فحاشی کے تحت تین ماہ کی سزا کا قانون ہے۔ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ڈانس بار کا لائسنس ہے تو آرکیسٹرا کا لائسنس نہیں ملے گا۔سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کی وہ دلیل بھی مسترد کردی جس میں کہا گیا تھا کہ معاملے کو بامبے ہائی کورٹ بھیجاجاناچاہیے۔کورٹ نے کہا کہ نیا ایکٹ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہی قانونی طریقے سے لایا گیا۔جب کورٹ نے کہا کہ ڈانس باروں پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے اس نئے ایکٹ کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ ہی کرے گا۔سپریم کورٹ انڈین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ایسوسی ایشن نے ریاستی حکومت کے نئے ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔انڈین ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن نے مہاراشٹر حکومت کے نئے ایکٹ مہاراشٹر پروہبشن آف آبسینس ڈانس ان ہوٹل اینڈ بار رومس اینڈ پروٹیکشن آف ڈگنٹی آف ویمن ایکٹ 2016کو چیلنج کیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ایکٹ غیر آئینی ہے۔اس سے پہلے عدالت نے مہاراشٹر حکومت کو پھٹکار لگاتے ہوئے قوانین پر عمل کرنے والے ڈانس باروں کو لائسنس دینے کی ہدایت دی تھی ۔ایکٹ کے مطابق، 11بجے کے بعد بار ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں شراب پیش نہیں کی جائے گی۔اس کے علاوہ پیسے بھی نہیں لٹائے جائیں گے۔ہوٹل اور ریسٹورنٹ میں سی سی ٹی وی کیمرے لگیں گے۔