نئی دہلی، 5؍اگست (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر دفاع منوہر پاریکر نے جمعہ کو واضح کیا کہ چین نے ہندوستانی علاقے میں کسی سڑک کی تعمیر نہیں کی ہے۔لوک سبھا میں وقفہ سوال میں ارکان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں میں ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی ہے، جس سے یہ پتہ چلے کہ چین نے ہمارے علاقے میں کسی سڑک کی تعمیر ہے۔انہوں نے اس کے ساتھ ہی کانگریس کے رکن گورو گوگو ئی کے ہندوستان- چین سرحد کے آس پاس آباد گاؤں میں بہتر ڈیجیٹل براڈبینڈ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اس علاقے میں آپٹیکل فائبر بچھانے کی تجاویز کو خیر مقدم کا مستحق بتایا اور ساتھ ہی اس پر غور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ۔ہندوستان -چین سرحد پر سڑکوں کی تعمیر کے سلسلے میں کئے گئے سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا سرحدی سڑک تنظیم (بی آر او)اس ذمہ داری کو انجام دیتا رہا ہے اور گزشتہ سال تک یہ سڑک اور نقل و حمل کی وزارت کے تحت کام کررہی تھی ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ہی اس محکمہ کو وزارت دفاع کے تحت لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر میں بجٹ کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وزارت ضمنی بجٹ لا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2015-2020کے طویل مدتی ایکشن پلان کے تحت ملک کے سرحدی علاقوں میں 22225.17کلومیٹر طویل 519نئے راستوں کی تعمیر کی جانی ہے۔انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ہندوستان - چین سرحد پر 73سڑکوں کی نشاندہی اسٹریٹیجک سڑکوں کے طور پر کی گئی ہے، جن میں سے 3417کلومیٹر لمبی 61سڑکوں کی تعمیر کی ذمہ داری بی آر او کو دی گئی تھی،جنہیں سال 2012تک مکمل کئے جانے کا منصوبہ تھا۔اس میں سے 707.24کلومیٹر لمبی 22سڑکوں کی تعمیر کاکام مکمل کر لیا گیا ہے۔پاریکر نے بتایا کہ 39دیگر سڑکوں کی تعمیر کے کام کو مکمل کرنے کے منصوبے پر نظر ثانی کی گئی ہے۔اس کے مطابق پانچ سڑکوں کو اس سال، 8 سڑکوں کو 2017میں، 12سڑکوں کو 2018میں، 8 سڑکوں کو 2019میں اورباقی6کو 2020میں مکمل کرلیا جائے گا۔