نئی دہلی، 22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) مختلف داخلہ ٹیسٹ اور امتحانات کے پیپر لیک او ربے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں طلبہ میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں کھل کر اس معاملے میں طلبہ کا ساتھ دے رہی ہیں۔ اسی کے تحت جمعہ کو کانگریس پارٹی نے ملک گیر احتجاج کیا اور طلبہ کے مطالبات کو حکومت کے سامنے پیش کیا۔ کانگریس نے میڈیکل میں داخلہ کیلئے نیٹ امتحان میں پیپر لیک اور دھاندلی کا الزام عائد کرتے نیٖٹ امتحان کو منسوخ کر نے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ پیپر لیک روکنے کے لئے قانون سازی کی جائے اور تازہ معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کروائی جائے۔
کانگریس پارٹی کے کارکنوں اور اہم لیڈران نے کرناٹک ،تلنگانہ ،اروناچل ، بنگال، اتراکھنڈ،منی پور،جموںکشمیر، مہاراشٹر،ایم پی، بہار، جھارکھنڈ، اترپردیش، ناگالینڈ، تری پورہ ،چھتیس گڑھ،چنڈی گڑھ،آسام، ادیشہ اور دیگر مقامات پر کانگریس پارٹی کے ریاستی یونٹس نے نیٖٹ میںدھاندلی کے خلاف زوردار احتجاج اورمظاہرے کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا۔مہاراشٹر کے متعدد شہروں میں کانگریس پارٹی نے احتجاج کیا جن میں ممبئی ، تھانے ، ناگپور ، پونے ، ایوت محل ، شولاپور ،ناسک ، اورنگ آباد، جالنہ ، پربھنی ، امرائوتی اور دیگر شہر شامل ہیں۔
کانگریس لیڈروں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت پیپر لیک کرنے والی حکومت بن چکی ہے۔ یہ حکومت ملک کے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے اور ان کی زندگیوں کو اندھیروں میں ڈھکیل رہی ہے۔کانگریس نے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر طالب علم کو انصاف فراہم کیا جائے۔پارٹی نے کہا کہ مودی حکومت نے لاکھوں طلبہ کے خواب چکنا چور کر دیئے ہیں لیکن یہ ظلم جاری نہیں رہنے دیں گے۔ ہم سرکار کو آئینہ دکھاتے رہیں گے۔
چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور میں ہونے والے احتجاج میں سابق وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل بھی شامل ہوئے۔ انہوں نیٹ میں دھاندلی کے خلاف پرزور احتجاج کیا۔بگھیل نے کہا کہ مودی حکومت میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔ یہ حکومت پیپر لیک روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ۔اس لئے طلبہ کا مطالبہ تسلیم کیا جائےاور نیٖٹ کے امتحان کو منسوخ کرکے سپریم کورٹ کی نگرانی میں غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔ انہوں نے اس دوران یہ دعویٰ کیا کہ گزشتہ ۷؍ سال میں مودی حکومت میں ۷۰؍ پیپر لیک ہوئے ہیں جو حیرت انگیز ہے۔
کانگریس پارٹی کی سینئر لیڈر پرینکا گاندھی نےحکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں ملک میں بھرتی کے ۴۳؍ امتحانات کے پیپرس لیک ہوچکے ہیں۔ بی جے پی کے دور حکومت میں پیپر لیک ہمارے ملک کا قومی مسئلہ بن گیا ہے جس نے اب تک کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔ہندوستان دنیا کا سب سے کم عمر ملک ہے۔ ہمارے پاس نوجوانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہےجوکہ ہمارا اثاثہ ہیں لیکن بی جے پی حکومت ہمارے نوجوانوں کو ہنر مند اور قابل بنانے کے بجائے انہیں کمزور کررہی ہے۔
دہلی میں یوتھ کانگریس نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ نیٖٹ کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے تاکہ طلبہ کو انصاف مل سکے۔یوتھ کانگریس کے صدر سرینواس بی وی احتجاج میں شامل تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امتحان میں دھاندلی کے ذریعہ طلبہ اور ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ انہوں نے پردھان کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا۔