کانپور،6اگست؍(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)قومی درج فہرست ذات کمیشن کے چیئرمین پی ایل پنیا نے مطالبہ کیا ہے کہ دو دن پہلے پولیس حراست میں ہوئی دلت نوجوان کی موت میں معطل شدہ تمام 15پولیس اہلکاروں کو برخواست کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور خاندان والوں کے مطالبے پر حراست میں موت کے اس معاملے کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانی چاہیے۔ایس سی کمیشن کے چیئرمین پی ایل پنیا آج صبح کانپور پہنچے اور پولیس حراست میں مشتبہ طور پر مارے گئے کمل والمیکی کے اہل خانہ سے ملنے شیام نگر میں واقع اس کے گھر پہنچے۔کمل کے اہل خانہ سے ملنے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں پنیا نے کہا کہ کمل کے اہل خانہ نے الزام لگایاکہ پولیس والوں نے اسے بری طرح سے لوہے کی راڈ سے مارا پیٹا گیا اور کرنٹ لگایا اور اس کی موت ہو جانے کے بعداسے پھندے پر لٹکا کر پھانسی کی شکل دی گئی۔انہوں نے دعوی کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کمل کی موت دھاری دھارآلہ سے ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمل کے خاندان والوں کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے اس لئے کمیشن بھی ریاست کے وزیر اعلی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پولیس حراست میں ہلاک ہوا۔ اس دلت نوجوان کے معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائے،اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں معطل تمام 15پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے،ساتھ ہی اتر پردیش پولیس کے ڈی جی پی ان تمام 15پولیس اہلکاروں کو فوری طور برخواست کرکے ان کے خلاف کارروائی کریں۔پنیا نے کہا کہ اس معاملے میں پولیس کے مخبروں کاکردار بھی کافی مشکوک ہے۔پولیس ان کو بھی گرفتار کر ان سے پوچھ گچھ کرے۔انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کمل کے خاندان کو مالی مدد اور اس کے خاندان کو رہنے کے لئے ایک گھر دیا جائے۔اس کے علاوہ اس کے خاندان کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دی جائے۔