نئی دہلی،28اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے پنشن کے حساب کے فارمولے میں اچانک ترمیم کئے جانے پر حکومت کی تنقید کرتے ہوئے اسے معاہدے کی خلاف ورزی کے مساوی بتایا۔پنشن کے حساب کے فارمولے میں ترمیم کے نتیجے میں یکم ستمبر، 2014کے بعد ریٹائرڈ ہوئے ملازمین کو ملنے والے منافع میں قابل ذکر کمی آ گئی تھی۔ماتحت قانون سازی امور کی کمیٹی نے اپنی 12ویں رپورٹ میں ترمیم کی نوعیت کو معاندانہ اورغیرمناسب بتایا تھا کیونکہ یکم ستمبر 2014 سے ایک دن پہلے ریٹائرڈ ہونے والے شخص کو 12ماہ کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر زیادہ پنشن ملے گی جبکہ ایک دن بعد ریٹائر ہونے والے شخص کو 60ماہ کی اوسط تنخواہ کی بنیاد پر کم پنشن ملے گی۔مانسون سیشن میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق پنشن کی منصوبہ بندی سے جڑنے کے وقت دونوں طرح کے ملازمین مساوی فارمولے کے بنیاد پر پنشن حاصل کرنے کے حقدار تھے۔کمیٹی نے پہلے کے فارمولے کو پھر سے نافذ کرنے کی سفارش کی ہے، کم از کم ویسے ملازمین کے لئے جو کمرچاری پنشن اسکیم سے منسلک 22اگست 2014کے نوٹیفکیشن سے پہلے اس کے ممبر بنے تھے۔یہ نوٹیفکیشن یکم ستمبر 2014کو نافذ ہوا تھا۔اس کمیٹی نے کہا ہے کہ پنشن کے لئے 60ماہ کی اوسط تنخواہ کو بنیاد بنائے جانے کو لے کر کہا ہے کہ کچھ اصلاحات کے ساتھ ایسا صرف ویسے ملازمین پر لاگو کیا جا سکتا ہے جو نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس پروگرام سے منسلک ہوئے ہیں۔