برمنگھم، 2؍ اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )لارڈس میں شاندار جیت درج کرنے کے بعد اولڈ ٹریفر ڈ میں دوسرے ٹیسٹ میں کراری شکست کا سامناکرنے والی پاکستانی ٹیم کو ایجبسٹن میں کل سے انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ کرکٹ میچ میں اگر واپسی کرنی ہے تو اس کے بلے بازوں کو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انگلینڈ نے دوسرا ٹیسٹ میچ 330رنوں سے جیت کر چار میچوں کی سیریز1-1سے برابر کرلی ہے ۔اس سے پہلے پاکستان نے لارڈس میں پہلا ٹیسٹ میچ 75رنوں سے جیتا تھا۔پاکستان کے لیے سب سے بڑی پریشانی اس کی بلے بازی ہے۔پہلے میچ میں کپتان مصباح الحق کی سنچری نے آخر میں دونوں ٹیموں کے درمیان فرق پیدا کیا تھا لیکن دوسرے میچ میں اس کا کوئی بھی بلے باز ٹک کر نہیں کھیل پایا تھا۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑی مشکل اس کی سلامی جوڑی کی کارکردگی کو لے کر ہے کیونکہ محمد حفیظ اور شان مسعود ٹیم کو اچھی شروعات دلانے میں ناکام رہے ہیں۔مسعود کو تیسرے ٹیسٹ میچ سے باہر کیا جا سکتا ہے اور ان کی جگہ سمیع اسلم کو جگہ دی سکتی ہے۔ایسی صورت میں اظہر علی کو اننگ کی شروعات کرنی پڑے گی۔پاکستانی کوچ مکی آرتھر نے کہاہے کہ ہم نے اس پر بات چیت کی، ہم اس نمبر کو لے کر سنجیدگی سے بات چیت کر رہے ہیں، ہمیں اس ٹیسٹ میچ میں کیا کرنا ہے اس کو لے کر ہماری رائے صاف ہے لیکن ہم اس کا عوامی طورپر اعلان نہیں کر سکتے ہیں۔اگر پچ اسپنروں کے موافق ہوتی ہے تو انگلینڈ معین علی کا ساتھ دینے کے لیے لیگ اسپنر عادل راشد کو آخری الیون میں شامل کر سکتا ہے ۔انہیں آل راؤنڈر بین اسٹوکس کی جگہ پر لیا جا سکتا ہے جو زخمی ہونے کی وجہ سے اس میچ میں نہیں کھیل پائیں گے۔انگلینڈ کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ کرس ووکس بہت اچھی فارم میں ہیں اور انہوں نے اپنی آل راؤنڈر کارکردگی سے اسٹوکس کی کمی نہیں کھلنے دی ہے۔یہ ایجبسٹن کے اپنے گھریلو میدان پر ان کا پہلا ٹیسٹ میچ بھی ہوگا۔جیمس اینڈرسن پہلے ٹیسٹ میچ میں نہیں کھیل پائے تھے لیکن ان کی واپسی سے انگلینڈ کا گیندبازی اٹیک بھی مضبوط ہوا ہے۔