ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / پارلیمان کے باہر فائرنگ، کارحملہ، 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

پارلیمان کے باہر فائرنگ، کارحملہ، 4 افراد ہلاک، 20 زخمی

Thu, 23 Mar 2017 16:13:14    S.O. News Service

لندن،23مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)برطانوی دارالحکومت لندن میں پارلیمان کے باہر دہشت گردی کے ایک مبیّنہ حملے میں چار افراد ہلاک اور کم سے کم بیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ پولیس نے ایک حملہ آور کو گولی مار دی ہے۔برطانوی پولیس نے بتایا ہے کہ مشتبہ حملہ آور نے پہلے ایک پولیس افسر کو چاقو گھونپ دیا تھا اور پھر پارلیمان کے باہر راہگیر پر کار چڑھادی تھی۔اس واقعے کے فوری بعد لندن کے قلب میں واقع پارلیمان کی عمارت کو سیل کردیا گیا۔پارلیمان کے ارکان اور عملہ کو عمارت کے اندر ہی رہنے کی ہدایت کی گئی۔
برطانوی دارالعوام کے لیڈر آف دا ہاؤس ڈیوڈ لڈنگٹن نے ایوان کو بتایا کہ انھوں نے فائرنگ کی آوازیں سنی ہیں اور نزدیک واقع پْل کے آس پاس دس سے زیادہ افراد پْراسرار طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پہلے ایک پولیس افسر کو چاقو گھونپا گیا اور اس کے بعد مسلح پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو گولی مار دی ہے۔اس کے علاوہ ویسٹ منسٹر محل کے احاطے میں تشدد کے مزید واقعات کی بھی اطلاع ملی ہے۔
برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کے دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ انھیں پارلیمان کے باہر ایک کار میں سوار ہوتے اور کہیں جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔پارلیمان کے باہر بدھ کی سہ پہر فائرنگ اور راہگیروں کار چڑھانے کے اس واقعے کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ قبل ازیں ایک سرکاری عہدہ دار نے کہا تھا کہ پارلیمان کے باہر دو افراد کو گولی مار دی گئی ہے اور عمارت کی تالا بندی کردی گئی ہے۔ دارالعوام کا اجلاس معطل کردیا گیا ہے اور ارکان سے کہا گیا ہے کہ وہ ایوان ہی میں موجود رہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس کو ویسٹ منسٹر پْل پر دو بج کر چالیس منٹ پر ایک واقعے کے بعد طلب کیا گیا تھا۔جائے وقوعہ پر پولیس افسر موجود ہیں اور یہ آتشیں اسلحے کا کوئی واقعہ ہوا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پولیس افسر، ایک عورت اور ایک حملہ آور شامل ہے۔ پولیس ایک اور مبینہ حملہ آور کی تلاش میں تھی۔ فوری طور پر اس حملے کی کسی گروپ نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا تھا کہ درحقیقت کیا ہوا ہے اور دس سے زیادہ لوگ کیسے اچانک زخمی ہوگئے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے ایک رپورٹر کا کہنا ہے طبی عملہ پارلیمان کی عمارت کے دروازوں میں دو افراد کو ابتدائی طبی امداد دے رہا تھا۔ ان کے علاوہ پارلیمان کی عمارت کے نزدیک چار اور افراد زمین پر زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ان میں بعض کے جسموں سے بہت زیادہ خون بہ رہا تھا اور وہ بے ہوش تھے۔ ایک تصویر میں لندن کی ایک بس کے ٹائروں تلے ایک لاش پڑی دیکھی جاسکتی ہے۔پولیس کی درخواست پر نزدیک واقع زیر زمین ویسٹ منسٹر ٹرین اسٹیشن کو بند کردیا گیا ہے۔ یہ اسٹیشن پارلیمان کی عمارت کے بالمقابل واقع ہے۔لندن میں تشدد کا یہ واقعہ بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر خودکش بم حملوں کا ایک سال پورا ہونے کے روز پیش آیا ہے۔ برسلز میں بم دھماکوں میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یادرہے کہ جولائی 2005ء میں القاعدہ سے متاثر چار برطانوی خودکش بمباروں نے لندن کے ٹرانسپورٹ سسٹم پر حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں باون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
 


Share: