ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ٹریڈیونینوں کی ہڑتال سے عام زندگی متاثر، کچھ ریاستوں میں ملازمین کو حراست میں لیا گیا

ٹریڈیونینوں کی ہڑتال سے عام زندگی متاثر، کچھ ریاستوں میں ملازمین کو حراست میں لیا گیا

Sat, 03 Sep 2016 11:09:21    S.O. News Service

نئی دہلی، 2؍ ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت کی ’’لیبر مخالف‘‘پالیسیوں کے خلاف احتجاج میں کارکنوں تنظیموں کی ایک دن کی ملک بھر میں ہڑتال سے آج ملک کے کئی حصوں میں عام زندگی متاثر ہوئی۔دس ٹریڈ یونینوں کے اعلان پر ہڑتال سے پبلک ٹرانسپورٹ، بینک اور کان کنی کے شعبوں پر سب سے زیادہ اثر پڑا۔اس دوران ہریانہ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں مظاہرہ کر رہے کئی ملازمین کو حراست میں لیا گیا۔مرکزی ٹریڈ یونینوں نے کہا کہ ہڑتال پوری طرح کامیاب رہی۔اس کی حمایت میں تقریباََ18کروڑ ملازمین سڑکوں پراترے۔یہ صورتحال اس وقت رہی جب پنجاب، ہماچل پردیش اور راجستھان میں اس کا جزوی اثر رہا۔صنعتی گروپایسوچیم نے ایک دن کی ہڑتال سے16000سے18000کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا ہے۔دس مرکزی ورکرز تنظیموں نے ملازمین کو بہتر تنخواہ اور سہولیات دینے کو لے کر حکومت کے عدمِ توجہی کے رخ اورلیبرقوانین میں ’’ملازم مخالف‘‘تبدیلی کی مخالفت میں ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔حکومت نے کہا کہ ریلوے، سول ایوی ایشن اور بڑے بندرگاہوں پرہڑتال کا اثر نہیں رہا۔وہیں بینک اور انشورنس، کوئلہ، ٹیلی کمیونیکیشن اور پیداوار جزوی طورپر متاثر ہوا۔نقل و حمل اورا سٹیل پرہلکا اثر پڑا۔ٹریڈ یونین کمیٹی کے جنرل سکریٹری ایس پی تواڑی نے دعویٰ کیا کہ ہڑتال نے کیرالہ، اڑیسہ، تریپورہ، آسام اورتلنگانہ جیسی ریاستوں میں روزانہ کے کام کاج متاثرہوئے۔آندھرا پردیش،منی پور،ہریانہ،مغربی بنگال،مہاراشٹر،کرناٹک اور اتترد پردیش میں ہڑتال کا اثر صاف طور پر دکھائی دیا۔


Share: