نئی دہلی،30؍اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک کی کئی ٹریڈ یونینوں کی طرف سے 2؍ستمبر جمعہ کو ملک گیر ہڑتال کے اعلان کے بعد نریندر مودی حکومت حرکت میں آگئی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے خود پیر کی شام کی ایک ہنگامہ میٹنگ بلائی تھی۔وزیر اعظم مودی کے ساتھ اس میٹنگ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی، توانائی کے وزیر پیوش گوئل اور لیبر کے وزیر بنڈارو دتاتریہ شامل تھے۔اے این آئی کی خبر کے مطابق حکومت نے تمام مرکزی ملازمین کو گزشتہ دو سال سے زیرالتوا بونس دینے کا اعلان کیا ہے۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت نے ایڈوائزری بورڈ کی سفارش قبول کر لی ہے۔انہوں نے بتایا کہ غیر زرعی کارکنوں کے لیے کم از کم تنخواہ 350روپے یومیہ طے کی گئی ہے جو فی الحال 246روپے یومیہ ہے۔وہیں لیفٹ نے حکومت کی کم از کم تنخواہ بڑھانے کی تجویز کو ٹھکرا دیا ہے۔سیٹو کا کہنا ہے کہ 18000روپے کم از کم تنخواہ ہونی چاہیے ۔وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے منگل کو کہا کہ وہ ٹریڈ یونینوں کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں ۔ٹریڈ یونینوں نے جمعہ کو مجوزہ اپنی ہڑتال منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ٹریڈ یونینوں نے خبردار کیا ہے کہ جمعہ کو ملک بھر میں بینک، سرکاری دفاتر اور فیکٹریاں بند رہیں گی ، ۔حالانکہ ریلوے ملازمین نے ابھی تک یہ اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ اس ہڑتال میں شامل ہوں گے۔اس کا مطلب ہے کہ ریلوے خدمات پر اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔ٹریڈ یونینیں گزشتہ سال ستمبر سے حکومت پر اپنی 12نکاتی مطالبات کو منوانے کا دباؤ ڈال رہی ہیں۔ان میں کم از کم تنخواہ میں اضافہ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔وہ حکومت کے ڈس انویسٹمنٹ کے حالیہ فیصلہ ، خاص طورپر فارما، دفاع کے شعبہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرائط میں نرمی دی جانے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے قومی مفادات پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ہڑتال اور مزدوروں کے مفادات کی حفاظت نہ کرنے کا الزام ایسے وقت سامنا آیا ہے جب حکومت معیشت میں نئی روح پھونکنے کے لیے اصلاحات کرنے کادعوی کر رہی ہے، اور اس تاثر کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش میں ہے جس کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ حکومت صرف بڑے تاجروں کا ہی مفاد دیکھ رہی ہے۔