کولکا تہ، 30/اپریل (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اسٹار شوٹر ابھینو بندرا نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان کو اعلی سطح پر کامیابی حاصل کرنی ہے، تو تمام چیزوں کو کھیل سائنس کے قریب رکھنا ہو گا۔بیجنگ اولمپک 2008میں طلائی تمغہ جیتنے والے بندرا نے کہا کہ کرشمہ کم وقت میں نہیں ہوتا اور بہتر نتائج کے لیے صحیح سمت میں کوشش کرنی پڑتی ہے۔بندرا نے کہا کہ صلاحیت کی شناخت کے لیے نتائج واحد اہلیت نہیں ہونے چاہیے اور اگر ضرورت پڑے تو اس کے لیے مغربی نظام اپنانا چاہیے۔بندرا نے کہاکہ صلاحیت کی شناخت کرنا سائنسی عمل ہونا چاہیے، آپ نوجوانوں کے نتائج کو ہی کامیابی کا واحد پیمانہ نہیں مان سکتے، بارہ سال کی عمر تک میں بالکل بیکار تھا، لیکن میں اولمپک میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب رہا، آپ کو صلاحیت کی شناخت کے لیے سائنسی طریقہ اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مغربی ممالک کافی سائنسی ٹیسٹ کرتے ہیں، بچوں کے جینس، جسمانی ڈھانچہ، کون سا کھیل سب سے زیادہ سازگار رہے گا، ہمیں اس نظام کو اپنے ملک میں لانا ہو گا، سبھی چیزوں کو کھیل سائنس اور میڈیسن کے ارد گرد تیار کرنا ہوگا، اگر آپ ٹاپ پر پہنچنا چاہتے ہیں تو یہ سب طریقے عمل میں لانے ہوں گے۔