ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / وزراء کا حکومت سے الگ رائے رکھنا اظہار رائے کی آزادی کے تحت آتا ہے؟ سماعت 31جولائی کو

وزراء کا حکومت سے الگ رائے رکھنا اظہار رائے کی آزادی کے تحت آتا ہے؟ سماعت 31جولائی کو

Tue, 02 May 2017 21:41:14    S.O. News Service

نئی دہلی، 2/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزراء کا حکومت کے اعلان کردہ رخ سے الگ رائے رکھنا کیا اظہار کی آزادی کے تحت آتا ہے؟ اس سوال پر اب سپریم کورٹ 31/جولائی کو سماعت کرے گا۔گزشتہ 20/اپریل کو سپریم کورٹ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے اسے پانچ ججوں کی بنچ کو ریفر کر سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے یوپی کے سابق وزیر اعظم خاں کے بلند شہر اجتماعی عصمت دری معاملے پر بیان کے معاملے پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا۔اعظم خان نے بیان بلند شہر گینگ ریپ کو سماج وادی پارٹی حکومت کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا تھا۔سماعت کے دوران ایمکس کیوری ہریش سالوے نے کہا کہ وزیر اجتماعی ذمہ داری کے اپنی  آئینی فرض سے بندھے ہوئے ہیں اور وہ حکومت کی اعلان کردہ پالیسی سے الگ نہیں بول سکتے ہیں۔ایک شخص اگر وزیر کا عہدہ قبول کرتا ہے تو وہ ذاتی اظہار رائے کی آزادی کا استعمال نہیں کر سکتا ہے اور وہ حکومت کے برعکس بیان نہیں دے سکتا۔گزشتہ 29/مارچ کو سپریم کورٹ نے بلند شہر گینگ ریپ معاملے پر سماعت کرتے ہوئے کئی آئینی سوالات اٹھائے تھے۔کورٹ نے پوچھا تھا کہ کیا خواتین سے عصمت دری کے معاملے میں عہدے پر بیٹھے لوگوں کے بیانات متاثرہ خاتون کے فری اینڈ فیئر ٹرائل کی خلاف ورزی تو نہیں ہیں؟سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ آئین میں خواتین کو مساوی حقوق اور شناخت کے ساتھ باعزت زندگی جینے کا حق دیا گیا ہے، ایسے میں کسی ریپ متاثرہ خاتون کے خلاف عہدے پر بیٹھا کوئی شخص اگر بیان بازی کرتا ہے،تو اس کی باعزت زندگی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہاں معاملہ صرف کسی کے بولنے کی آزادی کے حق کا نہیں ہے، بلکہ متاثرہ کے فری اینڈ فیئر ٹرائل کے حق کا بھی ہے۔اگر ملزم یہ کہتا ہے کہ اسے سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے، تو بات دوسری ہے،لیکن کوئی ڈی جی پی کہتا ہے کہ متاثرہ جھوٹی ہے تو پولیس معاملے کی کیا جانچ کرے گی؟گزشتہ 15/دسمبر کو بلند شہر گینگ ریپ معاملے میں یوپی کے وزیر اعظم خاں کے معافی نامے کو سپریم کورٹ نے قبول کر لیا تھا۔معافی نامے میں ریمورس یعنی ’پچھتاوا‘ لفظ کا استعمال کیا گیا تھا۔اس پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ غیر مشروط معافی نامے سے بھی اوپر کا معافی نامہ ہے۔اس سے پہلے کی سماعت میں سپریم کورٹ میں دئیے گئے حلف نامہ کو سپریم کورٹ نے غیر مشروط معافی نامہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔عدالت نے اعظم خاں کو ہدایت دی تھی کہ وہ نیا حلف نامہ دائر کریں۔غورطلب ہے کہ سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد اعظم خان سپریم کورٹ میں اپنے بیان کو لے کر غیر مشروط معافی مانگنے کو تیار ہوئے تھے۔اس معاملہ میں ایمکس کیوری پھالی ایس نریمن نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو ان وزراء کے رویے اور ذمہ داری پر ایک گائڈلائن جاری کرنی چاہیے جو کسی بھی طرح کا عوامی بیان دے دیتے ہیں۔یوپی کے بلند شہر میں ماں، بیٹی گینگ ریپ معاملے میں سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے۔اس گینگ ریپ کے معاملے میں یوپی کے وزیر اعظم خاں نے مبینہ طور پر یہ بیان دیتے ہوئے اس کو ایک سیاسی سازش قراردیا تھا۔جب اعظم خاں کو سپریم کورٹ نے طلب کیا تھا،تو اعظم خاں نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ انہوں نے یہ بیان نہیں دیا تھا کہ گینگ ریپ کے پیچھے سیاسی سازش ہے۔


 


Share: