نئی دہلی، 3 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )نیشنل ریل تحفظ فنڈ کے قیام کے لیے وزارت ریل وزارت خزانہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور اس کے لیے ریلوے نے 19لاکھ کروڑ روپے کی ایک تجویز وزارت خزانہ کو بھیجی ہے۔اس کے ساتھ ہی کھلی ریلوے کراسنگ کو ختم کرنے کے کام کوترجیحی بنیاد پر مکمل کیا جا رہا ہے۔ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے آج لوک سبھا میں وقفہ سوال کے دوران ار اکین کے سوالات کے جواب میں بتایا کہ نیشنل تحفظ فنڈ بنانے کے لیے وزیر خزانہ کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے۔انہوں نے ساتھ ہی اراکین کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ٹرینوں کے محفوظ آپریشن کے لیے پٹریوں کی تجدید کاری کے کام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ملک میں 31؍مارچ 2015کو کل ریل پٹریوں کی لمبائی 17996کلومیٹر ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے ریلوے کے وزیر نے کہا کہ پٹریوں کی تجدیدکاری ایک مسلسل عمل ہے۔انہوں نے بتایاکہ183 19کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نیشنل ریل تحفظ فنڈ(آر آر ایس کے )بنانے کی تجویز ہے جو سیکورٹی سے متعلق کاموں کے لیے ہو گا اور اگلے پانچ سال میں اس چالو کیا جائے گا۔اس سلسلے میں ایک تجویز غور کے لیے وزارت خزانہ کو بھیجی گئی ہے۔پربھو نے بتایا کہ اس فنڈ کے تحت 44 979کروڑ روپے سول انجینئرنگ املاک کی تعمیر پر خرچ ہو گا جس میں پٹریوں کی تجدیدکاری ، پلوں کی مرمت وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کھلے ریلوے کراسنگ کو ٹرین حادثوں کی سب سے بڑی وجہ مانتے ہوئے کہا کہ ایسے ریلو ے کراسنگ کو ختم کرنا ریلوے کی ترجیح میں شامل ہے۔پربھو نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت کے مطابق اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسے کراسنگ کو ریل اوور برج یا انڈر برج میں تبدیل کر دیا جائے۔