کوہیما،3؍فروری (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )ناگالینڈ میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں خواتین کودئیے گئے 33فیصد ریزرویشن کی مخالفت میں گزشتہ چند دنوں سے چل رہا احتجاج جمعرات کوپر تشدد ہو گیا ہے۔مشتعل مظاہرین نے دارالحکومت کوہیما میں میونسپل اور ضلع کمشنر سمیت کئی سرکاری دفاتر میں آگ لگا دی۔کچھ وزراء کے رشتہ داروں کے گھروں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی خبر ہے۔متعدد گاڑیوں کو بھی آگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ریاست میں بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے آسام رائفلز کی پانچ ٹکڑیوں کو تعینات کیا گیا ہے اور فوج کو تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، موبائل انٹرنیٹ سروس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور کچھ علاقوں میں دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے، کوہیما اور ڈیماپور اب بھی بند ہے۔آج حالات تھوڑے قابو میں آئے ہیں لیکن صورت حال اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے، منگل کو ڈیماپور اور لونگ لینگ اضلاع میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہوئے تصادم میں دو لوگوں کی ہلاکت کے بعد احتجاج نے پر تشدد شکل اختیار کر لی ہے ، مظاہرین وزیر اعلی ٹی آر جیلی یانگ اور ان کی کابینہ سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں،ساتھ ہی فائرنگ میں شامل تمام پولیس اہلکاروں کی فوری طور پر معطلی اور مارے گئے دونوں افراد کو ناگا شہید کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔حالانکہ فائرنگ کے لیے ذمہ دار پولیس اہلکاروں اور ڈیماپور کے پولیس کمشنر کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔اس پر بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرین رجیجو نے میڈیا کو بتایا کہ ناگالینڈ کے ڈی جی پی ایل ایل دنگیل نے پیراملٹری فورسز کی ٹکڑیوں کامطالبہ کیا تھا ، لیکن انتخابات کی وجہ سے سبھی مصروف ہیں ،اسی لیے آسام رائفلز کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
ویسے تو آسام رائفلز کی ناگالینڈ میں موجودگی رہتی ہے، کیونکہ وہاں آئی جی نارتھ بیٹھتے ہیں ، لیکن معاملہ لاء اینڈآرڈر سے جڑاہوا ہے اس لیے مرکزی وزارت داخلہ کی منظوری ضروری تھی۔وزارت داخلہ کے مطابق، ناگالینڈ کے ڈی جی پی نے جو رپورٹ وزارت کو بھیجی ہے اس کے مطابق وہاں حالات خراب ہو رہے ہیں۔ کرین رجیجو نے آسام رائفلز کے ڈی جی پی شوقین چوہان سے بات بھی کی۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کے وزیر اعلی کو بھی خطرہ ہو رہا ہے ،اس لیے خصوصی ہدایات ان کے گھر کی سیکورٹی کو لے کر دی گئی ہیں۔ناگالینڈ کے وزیر اعلی کی رہائش گاہ کوڈیماپور میں بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ناگالینڈ ٹرائبس ایکشن کمیٹی (این ٹی اے سی )نے نوجوانوں کی موت کو لے کر وزیر اعلی ٹی آر جیلی یانگ اور ان کی کابینہ سے جمعرات چار بجے تک استعفی دینے کو کہا تھا۔این ٹی اے سی نے گورنر پی بی آچاریہ کو ایک میمورنڈم میں کہا کہ وزیر اعلی اور ان کی کابینہ نے میونسپل کارپوریشن کے الیکشن کو ٹالنے کے مطالبہ کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا، اس کی وجہ سے حالات پرتشدد ہوئے ۔فائرنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں کے نام کھری ایسا وجو اویجو مہتا اور بیندنگ نگسانگ بتائے جا رہے ہیں، انہیں ناگا شہیدوں کا درجہ دیا گیا ہے۔این ٹی اے سی کے ترجمان نے کہا کہ ان لوگوں نے ناگا حقوق کی حفاظت کے لیے اپنی جان دی۔ این ٹی اے سی نے ان پولیس افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو اس فائرنگ کے دوران موجود تھے۔