نئی دہلی،4فروری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) یوپی میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر میرٹھ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ریلی سے خطاب کیا۔ ریلی میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو روزگار کے لئے اپنا گھر چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کے لوگوں نے مجھے وزیر اعظم بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں بطور وزیر اعظم کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ملک کا نام خراب ہو۔انہوں نے کہا کہ اب غنڈہ راج سے نجات کے لئے جنگ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی کے لئے مجھے بہت کچھ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں جتنا بھی اچھا کرنا چاہوں لیکن اگر یہاں رکاوٹ کرنے والی حکومت بیٹھی رہی تو لکھنؤ میں کام پھنس جائے گا۔ جن لوگوں نے ابھی تک یوپی کا بھلا نہیں ہونے دیا، وہاں پھر پھنس جائے گا۔پی ایم مودی نے کہا کہ یہاں پر قانون مکمل طور خراب ہے، یہاں پر جرم سیاسی پناہ سے پلی ہے، یہاں سے جرم ختم کرنا ہے، یہاں پر لوگوں کو تحفظ نہیں ہے، گھر نے نکلنے کے بعد واپسی پر شک رہتا ہے، ایسی حکومت کو ہٹانا ہے۔
پی ایم مودی نے کانگریس پارٹی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دن پہلے تک کانگریس کو ریاستی حکومت سے بڑی دقتیں تھی لیکن اب سب بدل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں اتحاد بہت اہم ہے لیکن جب گزشتہ کچھ دہائیوں سے جو پارٹیاں دوسروں کو کوسنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے تھے اب وہ ایک دوسرے کے گلے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو خود کو بچا نہیں سکتے وہ اترپردیش کو کیا بچائیں گے۔ انہوں نے کانگریس پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جب ملک نے ہی مسترد کردیا ہے، تب یوپی میں کس طرح بچیں گے، ان کا یوپی کی قسمت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔پی ایم مودی نے کہا کہ یہ انتخابات گھوٹالے کے خلاف بی جے پی کی جنگ ہے، گھوٹالوں سے جنگ ہے،گھوٹالہ سماج وادی، کانگریس، اکھلیش اور مایاوتی۔ انہوں نے کہا کہ یوپی طے کرے کہ آپ کوگھوٹالہ چاہئے یا کمل چاہئے، آپ کوگھوٹالہ چاہئے یا یوپی کی ترقی چاہئے، آپ کوگھوٹالہ چاہئے یا روزگار ۔پی ایم مودی نے کہا کہ بی جے پی کی جنگ اس گھوٹالے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کوگھوٹالے سے نجات نہیں ملے گی تب تک ریاست میں سکون کے دن نہیں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی سے میں یوپی کی کتنی بھی مدد کرنا چاہوں، لیکن اگر ریاستی حکومت کا ارادہ نہیں ہوگا تو کچھ نہیں ہوگا۔
پی ایم مودی نے کہا کہ دو ماہ قبل سماج وادی پارٹی کے لیڈر کہہ رہے تھے فلاں جرم کرتا ہے، فلاں کان کنی مافیا ہے، ایسے لوگوں کو سماج وادی پارٹی نے خود ٹکٹ دئے ہیں، ان لوگوں کی نیت صاف نہیں ہے۔ پی ایم مودی نے کہا کہ غریبوں کو بیماری میں حکومت کی طرف سے مدد ملے، اس کے لئے 4000 کروڑ روپیہ یوپی حکومت کو مرکز نے دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2014-15 میں 4000 کروڑ میں سے 2500 کروڑ بھی ریاستی حکومت خرچ نہیں کر پائی اور حساب دینے سے بچ رہی ہے۔-16 2015 میں بھی ایسا ہی حال رہا ہے، اب 7000 کروڑ روپے میں سے بھی 2800 کروڑ روپے غریبوں کے مفاد میں خرچ نہیں کر پائے۔یہ کون سی سیاست ہے کہ غریبوں کی دوائی کے لئے دیا گیا یہ پیسہ خرچ نہیں ہوا، یہاں پر بھی ووٹ بینک کی سیاست ہے۔مودی نے کہا کہ بیمار کی کوئی ذات نہیں ہوتی، بیماری میں بھی یوپی کی موجودہ حکومت نے لوگوں کی مدد نہیں کی، یہاں ہر چیز ووٹ بینک کے ترازو سے تولا جا رہا ہے، یہ ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
پی ایم مودی نے میرٹھ کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائی پائی کا حساب دینا ہے اس لئے ریاستی حکومت پیسے خرچ نہیں کر رہی ہے، یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے، لوگوں کو راحت میں یہ حکومت رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفظان صحت کے کام کے لئے بھی ریاستی حکومت سست ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے صفائی مہم کے لئے یوپی کو 950 کروڑ روپیہ دیا، لیکن اس کا بھی استعمال نہیں ہوا۔یہاں پر خاندان کی ہی سیاست ہو رہی ہے۔ دہلی حکومت یوپی کی زندگی تبدیل کرنے کے لئے سب کچھ کرنے کو تیار ہے، یہاں پر یوپی کی قسمت بدلنا ہے تو سب سے پہلے یہاں کی حکومت کوبدلئے، قسمت اپنے آپ بدل جائے گی۔ہر خاندان کا اپنا گھر ہونا چاہئے، آزادی کے اتنے سالوں بعد تمام لوگوں کا اپنا گھر ہونا چاہئے۔2022 تک ہر خاندان کے لئے ایک گھر کے انتظام کی مرکز منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ریاستی حکومتوں سے کہا گیا۔ یوپی حکومت سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست طلب کی گئی، لیکن مہینوں تک ریاستی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ہار کر ہندوستان کی حکومت نے گاؤں کے کمیونٹی سینٹرز کے نوجوانوں سے عرضیاں مانگنے کا کام کیا۔تب ریاستی حکومت جاگی اور پھر فہرست بھیجنے کے لئے کام شروع کیا۔
کسانوں پر پی ایم مودی نے کہا کہ یوپی میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی سب سے پہلا کام چھوٹے کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے، یہ مکمل ہو گا، میں دہلی سے اس بات کو دیکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ گنا کسانوں کو ادائیگی وقت پر نہیں ہوتی ہے،قیمت کی بروقت ادائیگی کا اہتمام کیا جائے گا۔ اس وقت 14 دن طے کیا گیا ہے۔ پی اے مودی نے کہا کہ اگر نیت نیک ہو تو کام مکمل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے انتخابات میں میں نے وعدہ کیا تھا کہ گنا کسانوں کا بقایہ معاف کیا جائے گا۔ مرکزی حکومت نے 22000 کروڑ روپے ادا کرنے کا کام کیا اور کسی بچولئے کو درمیان میں آنے نہیں دیا۔ براہ راست کسانوں کے اکاؤنٹس میں پیسہ جمع کروایا۔