ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / میامی میں زیکا وائرس کے بعد خواتین کے لیے الرٹ جاری

میامی میں زیکا وائرس کے بعد خواتین کے لیے الرٹ جاری

Tue, 02 Aug 2016 17:36:17    S.O. News Service

واشنگٹن2اگست(ایاس ونیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکہ میں حاملہ خواتین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ زیکا وائرس سے متاثرہ کاؤنٹی میامی کے متاثرہ علاقوں میں جانے سے گریزکریں۔زیکا وائرس سے متاثرہ امریکی ریاست فلوریڈا کی دو کاؤنٹیز میامی اور بروورڈ اس وائرس سے متاثرہ ہیں جبکہ مزید دس نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 14ہو گئی ہے۔زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کو غالباً وین وڈ کے مقامی مچھروں نے کاٹا ہے۔اس علاقے میں موجود حاملہ خواتین سے 15جون کو کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون کے ٹیسٹ کروائیں جبکہ ایسی خواتین جو بچہ پیدا کرنے کی خواہش رکھتی ہیں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ علاقے سے نکلنے کے بعد کم ازکم آٹھ ہفتوں تک انتظار کریں۔فلوریڈا کے گورنر ریک سکوٹ نے ہنگامی بنیادوں پر صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔سنیچر کو انگلینڈ میں عوامی صحت کے ادارے نے ماؤں سے کہا کہ وہ بلا ضرورت فلوریڈا جانے سے اجتناب کریں۔اب تک سامنے آنے والے 14 کیسز میں سے چار افراد ایسے ہیں جو مقامی مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے متاثر ہوئے جبکہ دیگردس متاثرین میں یہ مرض بیرونی علاقوں سے منتقل ہوا ہے۔متاثرین میں دو خواتین اور 12 مرد شامل ہیں۔دو روز قبل امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ممکنہ طور پر فلوریڈا میں سامنے آنے والے زیکا وائرس کے چار متاثرین کے کیسز ملک کے اندرموجوداس وائرس کے پہلے کیسز ہیں اور شاید یہ مقامی مچھروں سے منقتل ہوئے ہیں۔اب تک لاطینی امریکہ اور غرب الہند سے باہر جہاں جہاں یہ وائرس موجود ہے، یا تو سفر کے باعث یا پھر جنسی عمل کے ذریعے امریکہ میں منتقل ہوا تھا۔زیکاسے متاثر لوگ تھوڑے سے بیمار دکھائی دیتے ہیں تاہم یہ نومولود بچوں کے دماغ کو بہت بری طرح متاثر کرتا ہے۔امریکہ میں اب تک اس وائرس کے 1650کیسز سامنے آچکے ہیں تاہم فلوریڈا کے یہ چار کیسز وہ پہلے کیسز ہیں جو جنسی عمل یا بیرون ملک سے امریکہ میں منتقل نہیں ہوئے۔متاثرہ کاؤنٹیز میں خون کے عطیات لینے کاسلسلہ بند کر دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ پہلے سے موجود خون کے عطیات کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔اس کی تصدیق کے لیے کہ آیا یہ وائرس مچھروں سے پھیل رہا ہے یا نہیں ماہرین متاثرہ کاؤنٹیز کے150گز کے علاقے میں گھروں اور آبادی کا سروے کیا تھا۔گذشتہ ہفتے کے آغاز میں ہی ایک ہسپانوی خاتون کے ہاں زیکا سے متاثرہ بچے کی ولادت ہوئی اور خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ یورپ میں یہ اس قسم کا پہلا کیس ہے۔نومولود بچوں میں اس مرض کی منتقلی کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی ادارۂ صحت نے رواں برس فروری میں زیکا وائرس کے متعلق عالمی سطح پر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔


Share: