علی گڑھ،9ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )علی گڑہ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے سائیکیٹری شعبہ کے سربراہ پروفیسر ایس اے اعظمی نے10؍ستمبر کو سائیکیٹری شعبہ میں منائے جانے والے’’ عالمی یومِ خود کشی کی روک تھام‘‘ کے موقع پر کہا کہ خود کشی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موت کے جتنے بھی اسباب ہیں ان میں0.4سے0.9 فیصد اموات خود کشی کے باعث ہو رہی ہیں۔پروفیسر اعظمی نے کہا کہ موت کے تمام اسباب میں خود کشی دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا کہ خود کشی کی شرح ہر ملک میں الگ الگ ہے اور سب سے زیادہ شرح38.6فیصد فی لاکھ آبادی پر ہنگری میں اور سب سے کم شرح2.3فیصد فی لاکھ سالانہ میکسیکو میں ہے۔ ہندوستان میں خود کشی کی فی لاکھ شرح فی سال11ہے۔ ہندوستان میں کل خود کشی کا 50فیصد صرف کیرالا، مہاراشٹر، کرناٹک اور مغربی بنگال میں ہے۔انہوں نے بتایا کہ خودکشی کی شرح کئی اسباب سے متاثر ہوتی ہے۔
پروفیسر سہیل احمد اعظمی کہا کہ مردوں میں55سال اور خواتین میں45سال عمر کے بعد خود کشی کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ شدید جسمانی امراض، دماغی امراض، نشے کی لت، رشتوں میں کھٹاس، خاندان میں خود کشی کی تاریخ، شخصیت میں خامی، سماجی رشتوں و روزگار کی اتھل پتھل اور زندگی میں کوئی زبردست افسوسناک حادثہ خود کشی کو فروغ دینے کے اسباب ہیں۔انہوں نے کہا کہ قابلِ غور امر یہ ہے کہ دماغی امراض 90 فیصدکامیاب خودکشی کا سبب ہیں وہیں دماغی امراض میں تنہا ڈپریشن 50فیصد خود کشی کا سبب ہوتا ہے۔پروفیسرا عظمی نے بتایاکہ گذشتہ دہائیوں کے مقابلہ فی الوقت خود کشی کی شرح دو سے تین فیصد بڑھ گئی ہے جو تشویش کا باعث ہے اور اس کو فروغ دینے میں نشے کا چلن زیادہ ہونا مانا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کشی کا کوئی بھی سبب ہو لیکن ایک چیز دیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے سروٹونن نامی بایوکیمیکل عناصر کی سرگرمی میں کمی۔انہوں نے کہا کہ خود کشی سے بچاو کے لئے ہر سطح سے کوشش کی جانی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود کرنے والوں میں60سے70فیصد لوگ خود کشی کرنے سے قبل کسی نہ کسی کو اشارہ ضرور دے دیتے ہیں اس لئے ایسے ا شاروں کو سمجھ کر فوری کارروائی کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خودکشی کرنے کی کوشش کرنے والا دماغی امراض کا شکار ہے تو فوری طور پر تندہی کے ساتھ اس کا علاج کیا جانا بہت ضروری ہے۔