بنگلورو، 10/جولائی (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک ہائی کورٹ نے کہا کہ موت سے پہلے کسی بھی شخص کا بیان قابل اعتماد اور شک سے بالاتر ہونا چاہیے۔ مرنے سے پہلے لئے گئے بیان کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے ایک شٓخص کوقتل کے الزام سے بری کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق تپے سوامی اوراس کے والدین، چترادرگہ ضلع کے ہیریور تعلقہ کے رہنے والے نے ایک اپیل دائر کی تھی جس میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس میں انہیں گھر یلو خاتون کے قتل میں مجرم قراردیا گیا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس درخواست کی سماعت جسٹس کے سوم شیکھر کی قیادت والی ڈویزن بنچ نے کی اورحکم دیا کہ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازم ہے جس میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اینٹی مارٹم کا اعلان کرنے والا شخص ذہنی طور پر تندرست ہے۔
عدالت نےکہا کہ مقدمے میں قتل ہونے والے منجما کی طرف سے دیا گیا موت کا بیان قابل اعتماد اور حقیقی نہیں ہے۔ اس طرح اُس بیان کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ نے اپیل گزار کو قتل کے الزام سے بری کردیا۔