ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منڈگوڈ تحصیلدار دفتر میں ولیج اسسٹنٹ پربدعنوانی کا الزام

منڈگوڈ تحصیلدار دفتر میں ولیج اسسٹنٹ پربدعنوانی کا الزام

Sat, 14 Jan 2017 17:35:26    S.O. News Service

منڈگوڈ14/جنوری (ایس اونیوز)منڈگوڈ تحصیلدار دفتر میں ولّیج اسسٹنٹ(گرام سہایک) کے عہدے پر فائز روی کانت ڈوری نامی شخص پر عوام نے الزام لگایا ہے کہ وہ نئے راشن کارڈ بنوانے یا اس میں رد وبدل کرنے کے لئے بدعنوانی کررہا ہے۔

 کہا جاتا ہے کہ روی کانت تحصیلدار کے دفترمیں فوڈ اینڈ سول سپلائی کے شعبے میں گزشتہ 8-10برسوں سے یومیہ مزدوری پر ملازم ہے۔عوام کا الزام ہے کہ راشن کارڈ سے متعلقہ معاملات میں اس کی بدعنوانیوں کی تمام معلوما ت شعبے کے افسران کو ہونے کے باوجود اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ اس سے قبل جب یہاں منجو ناتھ بلّاری نے تحصیلدار کا عہدہ سنبھالا تھا اس وقت انہوں نے روی کانت کی بدعنوانیوں کو دیکھتے ہوئے اسے یہاں سے ٹرانسفر کرکے اس کے اپنے اصل مقام بیڈس گاوں بھیج دیا تھا۔ لیکن کچھ ہی مہینوں میں تحصیلدارمنجو ناتھ کا بھی ٹرانسفر ہوگیاتو روی کانت نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ منڈگوڈ تحصیلدار دفتر میں ہی اپنا ٹرانسفر کروالیا۔خبر یہ بھی ہے کہ کئی بار عوام نے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنراور مقامی ایم ایل اے وغیرہ سے بھی شکایات کیں، لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور روی کانت کی رشوت خوری اور بدعنوانی کا کاروبار بڑے اطمینان سے چل رہا ہے۔

 روی کانت کے بارے میں تحصیلدار دفتر کے بعض اہلکاروں کا یہ بھی الزام ہے کہ وہ یومیہ مزدور کے طور پر گرام سہایک کے عہدے پر رہنے کے باوجود دفتر کے دوسرے عملے کے ساتھ اس کا رویہ بڑے افسران کی طرح ہوتا ہے۔ و ہ دیگر اہلکاروں سے بدسلوکی کرتا ہے اور صیغہئ واحد میں مخاطب کرتا ہے۔ چونکہ اس کو اعلیٰ افسران نے سر پر چڑھا رکھا ہے اس لئے وہ اس طرح کا برتاؤ دیگر اسٹاف کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

 مندگوڈتحصیلدار اشوک گورانی کے ساتھ اس معاملے میں جب اخباری نمائندوں نے رابطہ قائم کیاتو انہوں نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ پہلے یہاں پر اسٹاف کی کمی تھی اس لئے روی کانت کو پھر سے اسی مقام پر متعین کیا گیا تھا۔ اب چونکہ اس کے بارے میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے ہیں، اس لئے اس کو جلد ہی اس کے اصل مقام بیڈس گاوں میں بھیج دیا جائے گا۔


Share: