نئی دہلی، 25؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )غیر امدادیافتہ نجی اسکولوں کی نمائندگی کر رہی ایک کمیٹی نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ منظوری کے لیے بڑی زمین کی ضرورت کی وجہ سے قومی دارالحکومت میں ثانوی سطح کے نجی اسکولوں کی کمی ہے جس سے تعلیم کے حق کا نفاذ متاثر ہو رہا ہے۔پبلک اسکول رابطہ کمیٹی نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ دہلی حکومت کے 22؍مارچ 2013کے سرکلر کے مطابق پہلی جماعت سے لے کر پانچویں جماعت تک پرائمری اسکولوں کے لیے منظوری حاصل کرنے کے واسطے 200مربع گز کا علاقہ ہونا ضروری ہے، وہیں آٹھویں جماعت تک ثانوی سطح کے اسکولوں کی منظوری کے واسطے 837مربع گز جگہ کا ہونا ضروری ہے۔اس نے چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس سنگیتا ڈھینگرا سہگل کی بنچ کے سامنے کہا کہ منظوری کے اس اصول کی وجہ سے پانچویں جماعت کے بعد 35ہزار نشستوں کی کمی ہو رہی ہے۔اس نے کہا کہ اس طرح تعلیم کے حق پر کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے کیونکہ بہت سے طالب علم پانچویں جماعت کے بعد سیٹوں کی کمی کی وجہ سے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔دہلی حکومت نے یہ کہہ کر اپنے فیصلے کا دفاع کیا کہ چھٹی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک میں پڑھنے والے بچے بڑھتے ہوئے بچے ہوتے ہیں جن کے لیے زیادہ جگہ کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے ثانوی سطح کے اسکولوں کے لیے بڑا علاقہ ہونا ضروری ہے۔دہلی حکومت کے ایڈیشنل مستقل جج سنتوش ترپاٹھی نے بنچ سے کہا کہ پالیسی ساز فیصلہ تعلیم کے کمرشیلائزیشن کو روکنے کے لیے بھی ماہرین کے ووٹ کی بنیاد پر لیا گیا تھا۔بنچ نے دونوں فریقوں کی دلیل سننے کے بعد کمیٹی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔کمیٹی نے ایک جج کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں سرکلر پر اس بنیاد پر مداخلت کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا کہ یہ ایک پالیسی ساز فیصلہ ہے۔