احمد آباد 3اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)گجرات ہائی کورٹ نے آج اس پٹیشن پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا جس میں حکومت کوایسی ہدایات دینے کا مطالبہ کیاگیاہے کہ مردہ گائے کی کھال نکالنے اور’’گؤرکشکوں‘‘کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جاسکے تاکہ انا میں ہوئی دلتوں کوپیٹنے جیسے واقعات روکے جاسکیں۔گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس وی ایم پنچولی کی بینچ نے ریاست حکومت، محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، پنچایت، دیہی رہائش اور دیہی ترقی محکمہ کے پرنسپل سکریٹری کو نوٹس جاری کیا۔اس معاملے کی سماعت آٹھ ستمبر کو ہو سکتی ہے۔این جی او امبیڈکر کارواں کی چیف رتنا ووہرا کی جانب سے داخل مفاد عامہ عرضی میں دعویٰ کیا گیا کہ ریاستی حکومت نے گرام پنچایتوں کوایساکوئی سرکولریاہدایات جاری نہیں کی ہیں جن سے گجرات پنچایت قانون 1993کی متعلقہ دفعات کے تحت مردہ جانوروں کی کھال کی صفائی کی جاسکے۔ووہرا نے گؤرکشاکے نام پرغنڈوں کی طرف سے انجام دی جا رہی غیر قانونی سرگرمیوں پرلگام لگانے کے لئے ریاست کے محکمہ داخلہ سے فوری طورپرکاروائی کابھی مطالبہ کیا۔یہ مفاد عامہ عرضی ایسے وقت میں داخل کی گئی ہے جب گزشتہ ماہ ہی گر-سومناتھ ضلع کے انا تعلقہ کے موٹے سمدھیالا گاؤں کے چار دلتوں کو کچھ ایسے لوگوں نے سرعام بری طرح پیٹا تھا جوخودکوگؤرکشک بتارہے تھے ۔اس واقعہ نے کافی طول پکڑ لیا تھا اور ملک بھر میں دلت تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اورعام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے گجرات کادورہ کر کے متاثرین سے ملاقات کی تھی۔