ممبئی، 28؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر کے لوک آیکت کی من مانے طریقے سے کام کرنے کے طریقہ پر حیرانی کااظہار کرتے ہوئے اس کے چیف کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ عدالت کے احکامات پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے۔جسٹس سی ایم کاناڈے اور جسٹس شالنی فانسلکر جوشی کی بنچ کو جب بتایا گیا کہ لوک آیکت ایم ایل تہلیانی اس معاملہ میں سماعت کر رہے ہیں اورفیصلہ بھی صادر کر رہے ہیں جس میں ہائی کورٹ نے ایسا کچھ بھی نہیں کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے تو اس پر بنچ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔بنچ ’دی مڈل انکم گروپ کوآپریرشن ہاؤسنگ سوسائٹی باندرہ ایسٹ گروپ لمیٹڈ‘کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔اس درخواست میں لوک آیکت کے اس فیصلہ کو چیلنج دیا گیا ہے جس میں لوک آیکت نے مہاراشٹر رہائش اور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ایچ اے ڈے اے )کو ہدایت دی تھی کہ وہ مضافاتی باندرہ علاقے میں واقع خستہ حال عمارتوں کے باشندوں کو نکالے جانے کے معاملے میں کوئی کارروائی نہ کرے۔لوک آیکت نے یہ ہدایت یہاں کے کچھ رہائشیوں کی شکایت کی بنیاد پر دی تھی جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ قانونی طریقہ کار کی پیروی کئے بغیر انہیں وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل اقبال چھاگلا ، جو خود بھی اسی عمارت میں رہتے ہیں لیکن وہ یہ جگہ چھوڑ کر کہیں اور جانے کے لیے تیار ہیں، نے دلیل دی کہ مہاراشٹر لوک آیکت اور ذیلی لوک آیکت ایکٹ 1971کے تحت لوک آیکت کو عبوری حکم جاری کرنے کا حق نہیں ہے۔