بھوپال، 19؍ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )مدھیہ پردیش میں گزشتہ ایک دہائی میں مبینہ طور پر بڑی تعداد میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے ریاستی کانگریس صدر ارون یادو نے آج یہاں ریاستی کانگریس کے دفتر کے باہر ایک روزہ مون ورت رکھ کر احتجاج کیا۔یادو کے مون ورت پر کانگریس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بچوں میں غذائی قلت کو روکنے کے لیے مختلف منصوبوں میں ہر سال تقریبا 22ارب روپے خرچ کرنے کے بعد بھی ریاست میں گزشتہ 12سالوں میں لاکھوں بچوں کی غذائی قلت سے موت ہوئی ہے۔صرف اس سال ہی ریاست میں 9000سے زیادہ بچوں کی موت غذائی قلت سے ہو چکی ہے۔غذائی قلت سے بچوں کی اموات کے معاملے میں سینئر کانگریس لیڈر جیوتی راتیہ سندھیا نے کل شیوپور ضلع کا دورہ کیا۔کانگریس نے بیان میں شیوپور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یکم اپریل 2014سے جنوری 2016تک صرف شیوپور ضلع میں 1280بچوں کی اموات غذائی قلت سے ہوئی ہیں۔موت ورت پر بیٹھے یادو نے سلیٹ پر لکھ کر میڈیا سے کہاکہ اصل میں یہ کافی تکلیف دہ ہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے ریاست میں متعدد بچوں کی موت ہو گئی۔انہوں نے بتایاکہ شیوپور ضلع سے سات بچے آج یہاں آئے ہیں جن کا ریڈکراس اسپتا ل میں علاج چل رہا ہے۔کانگریس صدر نے بتایاکہ صورت حال کا تجزیہ کرنے کے لیے کانگریس کے سینئر ممبران اسمبلی کی ایک ٹیم کو جلد ہی شیوپور ضلع میں بھیجا جائے گا۔اس سلسلے میں جواب کے لیے سرکاری حکام سے رابطہ کرنے کرنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔